حکومت کا عوام پر بڑھتا ہوا ٹیکس، شہباز شریف کا صبر جواب دے گیا، بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ

حکومت نےقرضے لینےکا ریکارڈتوڑ دیا۔اپوزیشن جماعتوں نے منی بجٹ کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں منی بجٹ کے خلاف شدید احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

منی بجٹ کی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج ہوگا اس سے قبل اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے منی بجٹ کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں مریم اورنگزیب ،رانا تنویر رانا ثناءاللہ ،نوید قمر خورشید شاہ ،شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف اور میر حیدر ہوتی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت تیسرامنی بجٹ پیش کرنےجا رہی ہے، حکومت رفارمزکےنام پرٹیکسزمیں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے،حکومت نےوعدہ کیا تھا کہ کشکول اٹھانے کےبجائے خودکشی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نےقرضے لینےکا ریکارڈتوڑ دیا،ہم جے آئی ٹی رپورٹ سےبالکل مطمئن نہیں ہیں،یہ رپورٹ صرف بیان بازی ہےاورکچھ نہیں،ق لیگ کاحکومت کےساتھ معاملہ اندرونی ہے،پی ٹی آئی کی کےپی اورسندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں بہت فرق ہے۔

رہنما پیپلز پارٹی نوید قمر نے کہا ہے کہ حکومت نے پہلے منی بجٹ میں 70 ارب روپے کے ٹیکس لگائے،حکومت اب مزید 170 ارب روپے کے ٹیکس لگانے جا رہی ہے۔

اپوزیشن نے متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ ٹیکسوں کا نفاذ قبول نہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎