200ارب روپے کا قرضہ لینے کیلئے حکومت نے پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ گروی رکھوا دیا

 وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہئیے کہ وہ اپنی کالی عینک اُتاریں اور سی ٹی ڈی کی طرف سے جومظلوم خاندان کو دھمکیاں مل رہی ہیں، اس کا نوٹس لیں۔


نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بینکوں سے قرضے کے لیے واپڈا ہاؤس ، ڈیمز اور پاور پلانٹس گروی رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔انہوں نے کہا حکومت کو تو یہ چاہئیے تھا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حکومت جو اقدامات کرنے کی کوشش کررہی ہے اور200 ارب کا جو نیا قرضہ لیا جارہا ہے اس کی مکمل تفصیلات کو سامنے لایا جاتا اور عوام کے ساتھ شئیر کیا جاتا، حکومت کی جانب سے ہمیں تو بتایا جاتا تھا کہ ہم توشفاف ہیں، ہر معاہدہ سامنے لائیں گ ، گذشتہ حکومتوں کی طرح نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بینکوں سے قرض لینے کا بھی خفیہ معاہدہ کیا ،قرضوں کے لیے بینکوں کے پاس واپڈا ہاؤس ،ڈیمز اور پاورپلانٹس گروی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں وہ گذشتہ حکومت کو یہ کہتے تھے کہ قطر معاہدے کو سامنے لاؤ،دنیاکے ساتھ دیگر معاہدے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سامنے لاؤ، یورو بانڈز کے معاملات سامنے لاؤ، یہ اسد عمر اور عمران خان خود تقریریں کرتے تھے ،اب خود بھی انہوں نے قطر سے معاہدے کو خفیہ رکھا ۔

حکومت نے آئی پی پیز کو ادائیگی کے لیے پاکستانی بینکوں سے فوری طور پر دو سو ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا ،وزارت توانائی نے 6 سو ارب کے قرض کے لیے 6 بینکوں سے معاہدہ کیا ،وزیر خزانہ اسد عمر نے بینکو ں سے دو سو ارب روپے قرض لینے کے لیے اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں منظوری دی۔ اس معاہدے کے مطابق میزان بینک 88 ارب روپے ،فیصل بینک 35 ارب ،بینک اسلامی پاکستان 35 ارب اور دبئی اسلامک بینک 14.15ارب روپے قرض دے گا۔

وزارت توانائی کی زمین،بلڈنگ، پلانٹس اور مشینری گروی رکھی جائے گی۔ ایم سی بی اسلامک بینک 10ارب روپے ،البراک بینک 8ارب ،باقی بینکوں سے بھی 8ارب روپے لئے جارہے ہیں۔ ان بینکوں نے حکومت سے کہا ہے کہ ہمیں آپ پر اعتبار نہیں ہے، پہلے ہمیں گارنٹی دیں جس پر چیزیں گروی رکھی گئی ہیں۔ 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎