بیرون ممالک میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت رکوانے کیلئے حکومت متحرک ہوگئی، وزیراعظم کا اہم اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ گستاخانہ خاکوں کی روک تھام کے حوالے سے کردار ادا کرے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وتشدد کا نوٹس لے.


 بھارتی مظالم پر توجہ دلائی اور کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرکمیشن بنایا جائے ، بین المذاہب ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے اقوام متحدہ کی صدر جنرل اسمبلی ماریا فرنینڈا پنوسا نے ملاقات کی اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی بھی موجود تھیںملاقات کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ماریا فرنینڈا کا وزیراعظم ہاؤس میں استقبال کیا گیا۔

یو این جنرل اسمبلی کی صدر نے پسماندہ لوگوں کو بااختیار بنانے کے لیے وزیر اعظم کی کوششوں کو سراہا۔وزیراعظم نے حکومتی منصوبوں پر صدر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو بریفنگ دی اور کہا کہ نوجوان پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں اور غربت کے خاتمے کا پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ 50 لاکھ گھر اور بلین ٹری سونامی حکومت کے منصوبوں میں شامل ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ماریا فرنینڈا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر دلوائی اور کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کشمنر برائے انسانی حقوق کی جون 2018 کی رپورٹ اس پر موجود ہے۔عمران خان نے گستاخانہ خاکوں سے متعلق بھی بات چیت کی اور کہا کہ اس معاملے پر پاکستانیوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، جنرل اسمبلی کی صدر معاملے پر کردار ادا کریں۔

وزیراعظم نے بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ کی صدر نے افغان امن عمل میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی اور پاکستان کی جانب سے لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کو بھی سراہا۔۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎