قطر اقتصادی پابندیوں سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

جب قطر پر اس کے چار ہمسایہ ممالک نے جون سنہ 2017 میں اقتصادی اور سفارتی پابندیاں لگائیں تو ایک ماہر کے مطابق اسے دو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔


لندن کی رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے محقق مائیکل سٹیونز کے مطابق ’قطریوں کو دو محاذوں پر جنگ لڑنا پڑی۔‘

ان کے مطابق ان میں سے پہلا محاذ ’دنیا کو یہ یقین دلانا تھا کہ ہم اسامہ بن لادن جیسے خوفناک دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرتے۔‘

اور دوسرا محاذ ’دنیا کو یہ یقین دلانا تھا کہ قطر کی معیشت بہت طاقتور ہے جہاں پر سرمایہ کاری کرنا محفوظ ہے، اور قطریوں نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن سے غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔‘

قطر پر اس کے ہمسائے اور طاقتور ملک سعودی عرب کے علاوہ بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات نے سنہ 2017 میں اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان ممالک کا موقف تھا کہ قطر دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے جسے قطر نے سختی سے مسترد کیا تھا۔

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ 2017 میں سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے پیچھے علاقائی اور تاریخی وجوہات تھیں۔

دراصل قطر 55 سال تک برطانوی حکمرانی کے بعد 1971 میں آزاد ملک کے طور پر سامنے آیا۔ اس سے پہلے وہ متحدہ عرب امارات کا حصہ بننے سے انکار کر چکا تھا۔

ان ممالک نے قطر کے سامنے 13 مطالبات رکھے جن میں ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کا خاتمہ اور الجزیرہ ٹی وی سٹیشن کی بندش بھی شامل تھی۔ قطر نے ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 19 ماہ گزر جانے کے بعد اس پر ابھی تک پابندیاں عائد ہیں۔

استنبول کے سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی سعودی عرب کی مشکلات کے بعد قطر دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے یا نہیں قطر اس حوالے سے شہ سرخیوں میں نہیں ہے۔

تاہم قطر اب بھی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دنیا کو باور کرا سکے کہ اس کی معیشت کاروبار کے لیے کھلی ہے۔

سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ سے پہلے اس کی 60 فیصد درآمدات، خاص طور پر خوراک کی فراہمی، ان ہی ممالک سے ہو رہی تھی۔

بائیکاٹ کے بعد قطر کو ترکی اور ایران کے ذریعے متبادل فراہمی کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے تیزی سے کام کرنا پڑا۔

قطر نے فوری طور پر مقامی پیداوار کو بڑھایا، یہاں تک کہ دودھ کی ترسیل یقینی بنانے کے لیے دسیوں ہزار گائیں بھی درآمد کیں۔

قطر کے ایک سابق اقتصادی مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’قطر صورت حال سے عمدہ طریقے سے عہدہ برا ہوا۔‘

تاہم ان کا یہ خیال بھی ہے کہ قطر کے لیے بہتر ہوتا کہ وہ اپنی دولت کا استعمال کرتے ہوئے مغربی فوڈ کمپنیز کے حصص خرید لیتا تاکہ اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

قطری انویسٹمنٹ فنڈ کے سینیئر ڈائریکٹر اکبر خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ’اس غیر معمولی بحران سے نمٹنے میں توقعات سے زیادہ بہتر کام کیا ہے۔‘

اکبر خان کے مطابق ’ایک اہم بات جس کا کریڈٹ قطر کو جاتا ہے یہ ہے کہ اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہریوں کی زندگیاں متاثر نہ ہوں۔ پابندیوں نے قطر کے لوگوں کے احساسات کو متاثر کیا لیکن ان کے کاروبار کرنے کی صلاحیت کو مثاثر نہیں کیا۔‘

قطر کو اس صورتحال میں ایک مدد یوں بھی ملی کہ ہمسایوں کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں گزرنے کے تین ماہ بعد ہی ستمبر سنہ2017 میں اس نے حماد نامی سرکاری بندر گاہ کا افتتاح کر دیا جہاں بڑے تجارتی جہاز آ سکتے ہیں۔

قطر اس سے پہلے بڑی حد تک ’ری ایکسپورٹس‘ پر انحصار کرتا تھا، یعنی وہ اشیا جو دنیا بھر سے پہلے متحدہ عرب امارات جیسے ہمسایہ ممالک کی بندر گاہوں پر پہنچتی تھیں اور پھر وہاں سے چھوٹے جہازوں کے ذریعے قطر بھیجی جاتی تھیں۔

قطر خوراک اور صارفین کے سامان کی فراہمی کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے باہر خاص طور سے امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ قطری حکام جرمنی کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

قطری انویسٹمینٹ فنڈ کے سینئیر ڈائریکٹر اکبر خان کا کہنا ہے کہ ’ان ممالک کے ساتھ معاشی اور سفارتی تعلقات بڑھانا قطر کی اس نئی پالیسی کا حصہ سے جس سے وہ خلیج سے باہر کے مملک کے ساتھ بھرپور انداز میں کام کر سکے گا۔‘

قطر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے حکومت نے لیبر کے قوانین میں بہتری، نج کاری میں آسانی، خصوصی اقتصادی زون اور بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کی ملکیت کی حد میں اضافے جیسے اقدامات کیے ہیں جن سے اس کے خیال میں ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

تاہم بہت سے لوگ اب بھی قائل نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے مسائل بڑے پیمانے پر بیرونی ممالک کی شمولیت کے آڑے آ رہے ہیں۔

ایک سابق قطری مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’قطری بیوروکریسی کی حالت ہولناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں منڈی چھوٹی، مقابلہ کم اور قیمتیں زیادہ ہیں۔‘

انجامِ کار قطر کو سب سے زیادہ سہارا اس کے گیس کے ذخائر نے دیا ہے جو دنیا میں تیسرے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ ان کی مدد سے قطر پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی فراہمی کے بحران پر قابو پا سکا ہے۔

قطر مائع گیس کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور اس نے 2017 میں 8.1 کروڑ ٹن گیس برآمد کی جو تمام دنیا کی کل درآمد کردہ گیس کا 28 فیصد ہے۔ قطر یومیہ چھ لاکھ بیرل تیل بھی برآمد کرتا ہے، تاہم وہ تیل درآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک سے الگ ہو گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق بائیکاٹ سے نہیں ہے۔

قطر تیل اور گیس کی دولت سے اس قدر مالامال ہے کہ بائیکاٹ کے باوجود اس کی معیشت کی نمو جاری ہے۔ 2017 میں اس کی معیشت 1.6 فیصد کی شرح سے پھیلی۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2018 میں توقع ہے کہ یہ شرح 2.8 جب کہ 2019 میں 3.1 فیصد ہو گی۔

لندن کے ادارے کیپٹل اکانامکس کے جیسن ٹووی کے مطابق ’خلیجی ملکوں کے مقابلے میں قطر کو اپنی معیشت میں تنوع لانے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ اس کی آبادی صرف تین لاکھ ہے اور قطری حکومت بڑی آسانی سے اپنے تمام شہریوں کو سرکاری ملازمتیں دے سکتی ہے۔‘

سٹیونز اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’قطر اگر خود نہ چاہے تو اسے تجارت کے لیے بہت زیادہ سازگار معیشت وضع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎