بھارتیوں نے زیادہ سے زیادہ لائیکس کیلئے فوجیوں کی جعلی تصاویر پھیلا دیں

سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ بھارتی فوجیوں کی ہیں، تاہم ان جعلی تصاویر کا پول کھُل گیا—۔فائل فوٹو/ جیو نیوز


نئی دہلی: بھارت کی اپنے فوجیوں کو دنیا کی سخت جان فوج دکھانے کی ایک اور چال اُس وقت ناکام ہوگئی، جب زیادہ سے زیادہ لائیکس اور توجہ حاصل کرنے کے لیے فوجیوں کی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلادی گئیں۔

13 ہزار فٹ بلندی پر واقع گلیشیئر پر موجود فوجیوں کی کچھ تصاویر کے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ یہ بھارتی فوجی ہیں، تاہم برطانوی میڈیا کی تحقیق میں بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھل گیا اور جن فوجیوں کی تصاویر شیئر کی گئیں وہ غیر ملکی نکلے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر کو بنگالی زبان کے ایک فیس بک پیج پر پاکستانی سرحد پر تعینات بھارتی خواتین فوجیوں کی تصویر بتا کر شئیر کیا گیا، جسے 3 ہزار سے زیادہ افراد نے سوشل میڈیا پر شئیر کیا۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے شیئر کی گئی جعلی تصویر—۔فوٹو/ سوشل میڈیا

لیکن یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا اور یہ تصویر دراصل کردستان کے پیشمرگا جنگجوؤں کی نکلی۔

’انڈین واریئر‘ نامی ایک فیس بک نے برف سے ڈھکے چہرے کے ساتھ اس شخص کی تصویر کو بھارتی فوجی کی تصویر بتا کر شئیر کیا، جسے سیکڑوں فیس بک پیجز اور ٹوئٹر ہینڈلز نے آگے بڑھایا، لیکن اس جھوٹے دعوے کی بھی قلعی کھل گئی۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے شیئر کی گئی انڈین فوجی کی ایک جعلی تصویر—۔فوٹو/ سوشل میڈیا

بھارتی میڈیا کی جانب سے شیئر کی گئی انڈین فوجی کی ایک جعلی تصویر—۔فوٹو/ سوشل میڈیا

یہ تصویر دراصل امریکی سرفر اور تیراک ڈین شکیٹر کی نکلی، جو مشی گن کی سپریئر جھیل میں منفی 30 ڈگری درجہ حرارت میں سرفنگ کے دوران لی گئی تھی۔

امریکی سرفر اور تیراک ڈین شکیٹر کی اصل تصویر—۔فوٹو/ بشکریہ یوٹیوب

منفی 50 ڈگری میں سیاچن گلیشیئر پر فرائض سرانجام دیتے مبینہ بھارتی فوجی کی ایک تصویر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمان کرن کھیر اور بالی وڈ اداکارہ شردھا کپور نے شئیر کیا۔

تاہم ان جھوٹے دعووں کا بھی پول کھل گیا۔ درحقیقت یہ تصاویر 2013 میں روس کی اسپیشل فورس کی تربیت کے دوران لی گئی تھیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎