سانحہ ساہیوال:جے آئی ٹی نے ہاتھ کھڑے کردئیے، قوم انتظار کرتی رہ گئی لیکن جے آئی ٹی سربراہ نے کچھ اور ہی اعلان کردیا

سربراہ جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین پر کوئی دباؤ نہیں تھا انہوں نے وہی بیان دیا جو وہاں دیکھا۔اعجاز شاہ کا مزید کہنا تھا کہ جو میڈیا اور عوام کے سامنے ہے وہی وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتاؤں گا۔ان کا کہنا تھا کہ مکمل تحقیقات کے لیے 30دن درکار ہوں گے۔واضح رہے سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی نے ابتدائی تحقیقات میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دے دیا تھا۔


سربراہ جے آئی ٹی اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ ساہیوال جیسے بڑے واقعے کی رپورٹ اتنی جلد تیار نہیں ہو سکتی۔سربراہ جے آئی ٹی اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ بنانے میں مزید کچھ دن لگیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال میں 6 پولیس اہلکار زیر حراست ہیں۔جے آئی ٹی نے جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا ہے۔

جے آئی ٹی عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ کر کے لاہور روانہ ہو گئی۔

سانحہ ساہیوال پر بنائے جانے والی جے آئی ٹی کے ارکان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اورعینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے تھے۔ یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو ذمہ داری سونپی تھی جو ممکنہ طور پر آج اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم میں دو ممبران کا اضافہ بھی کیا جس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں ڈی ایس پی انویسٹی گیشن پنجاب خالد اللہ بخش اور ایس ڈی پی او ساہیوالفلک شیر بھی ممبر ہوں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان دونوں نئے اراکین میں سے ایک رپورٹ مکمل کر کے پیش کرے گا۔واضح رہے ساہیوال میں دو روز قبل سی ٹی ڈی کی مبینہ کارروائی میں چار افراد ہلاک ہوئے جن کی شناخت خلیل، نبیلہ، اریبہ اور ذیشان کے نام سے ہوئی تھی۔ فائرنگ کے دوران ایک بچہ گولی لگنے اور ایک بچیشیشہ لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے خلیل اور نبیلہ بچ جانے والے تین بچوں کے والدین تھے جبکہ اریبہ ان بچوں کی بڑی بہن تھی جو ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎