وفاقی حکومت خطرے میں،اہم ترین اتحادی اپوزیشن کیساتھ جا بیٹھا

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ ) اور پی ٹی آئی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے.


نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی عامر متین نے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔

عامر متین کا کہنا تھا کہ اے این پی ، ایم ایم اے ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے آپس میں ملنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ پاکستان تحریک انصاف کو جس چیز سے فرق پڑتا ہے وہ اختر مینگل صاحب کا اپوزیشن اجلاس میں بیٹھنا ہے۔

اختر مینگل کی بلوچستان حکومت کے حوالے سے اور سی پیک کے حوالے سے کافی اہمیت ہے کیونکہ یہ سیاسی طور پر قد آور شخصیت ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ نمبرز گیم میں پی ٹی آئی اگر ایم کیو ایم اور بے این پی (بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی) اختر مینگل کو نکال دیا جائے تو تمام اتحادیوں اور آزاد اُمیدواروں کو ملایا جائے تو جا کر اکثریت بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سات اراکین اسمبلی ہیں جبکہ بی این پی کے 4 اراکین ہیں اگر بی این پی مینگل کے بعد ایم کیو ایم نے بھی حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں تو حکومت کے لیے سیاسی طور پر یہ بات خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ حکومت گر جائے گی کیونکہ نمبرز گیم کی بنا پر اس ملک میں حکومت تب تک نہیں گرتی جب تک اسٹیبلشمنٹ کی مرضی نہ ہو۔

یاد رہے کہ اختر مینگل کا اپوزیشن بینچوں میں جا کر بیٹھنا حکومت کے لیے خطری کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎