پی ٹی آئی اور ق لیگ میں اصل اختلاف سامنے آگیا،عمران خان ق لیگ کو ایک اور وزارت کیوں نہیں دینا چاہتے؟ جانیے

معروف صحافی روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران تو کسی کے ساتھ بھی فٹ ہو جاتے ہیں انہوں نے نواز شریف کے ساتھ بھی سیاست کی اور آصف زرداری کے ساتھ بھی فٹ ہوگئے جنہوں نے ق لیگ کو قاتل لیگ کہا۔اور اب اگر عمران خان برادریوں میں پڑ گئے تو مشکل انہی کو ہوگی۔آخر پر اچھے برے کی ذمہ داری عمران خان پر آئے گی اور لوگ عمران خان کے وعدوں کو استعمال کر رہے ہیں۔


روف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ پرویز الہیٰ کو کہیں کہ جائیں آپ ن لیگ کے پاس اور بن جائیں وزیر اعلی پنجاب۔ کیونکہ عمران خان تو بالکل ہی ان کے آگے لیٹ گئے ہیں انھیں اپنی پاور دکھانی چاہیے۔ اور اصل میں ق لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان مسئلہ یہ ہے کہ مونس الہی کو وزارت نہیں دی گئی حالانکہ مونس الہی پر چونتیس کروڑ روپے کا ایک سکینڈل بھی ہے۔

جس پر عدالت کا فیصلہ بھی آئی ہوئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنا دیا گیا فہمیدہ مرزا کو بھی وزارت دے دی تو کیا مسئلہ ہےپھر مونس الہیٰ کو بھی وزارت دے دیں۔جب کہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے ق لیگ کو تمام تحفظات دور کروانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔دنوں جماعتوں میں تعاون جاری رکھنے اور اتحاد کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

دنوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اس سلسلے میں ایک تحریری معاہدہ طے پایا ہے۔جلد ہیپنجاب یا وفاق میں ق لیگ کے دو وزراء حلف اٹھائیں گے جب کہ وزراء کو اپنے محکموں میں فری ہینڈ دیا جائے گا۔ق لیگ کے ایم این ایز والے حلقوں میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی جب کہ ق لیگ کے لوگوں کو کارپوریشن سمیت مخلتف محکموں میں جگہ دی جائے گی۔ اور اہم امور میں ق لیگ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎