اہم سیاسی مسئلے میں پی ٹی آئی جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی، عمران خان کا فیصلہ ماننے سے انکار

 شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے ہٹانے اور شیخ رشید کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ممبر بنانے کے معاملے پر حکومتی جماعت کا بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہوجانا حکومت کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا۔


 جس کی وجہ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملات کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور علی محمد خان نے پارٹی کے دونوں فیصلوں پر اختلافات کا اظہار کیا اور دونوں فیصلوں کی مخالفت کر دی۔

اس کے علاوہ کابینہ کے دیگر اراکین اور پارٹی کے کچھ سینئیر رہنما بھی اس قسم کا کوئی ایڈونچر نہیں چاہتے۔ 

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ سے متعلق جو بیان دیا تھا اُس پر بھی پارٹی کے سینئیر رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق شیخ رشید نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بیان دیا تو اس پر بھی کابینہ اراکین نے وزیراعظم عمران خان سے احتجاج کیا اور اُنہیں کہا گیا کہ اُن کا احتجاج شیخ رشید تک پہنچایا جائے۔

شیخ رشید کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں راجا ریاض اور ریاض فتیانہ کے سامنے آنے والے بیانات بھی اسی رد عمل کا نتیجہ تھے ، ان رہنماؤں نے اس سے پہلے بھی شیخ رشید کی شمولیت کی مخالفت کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے جو بھی بیانات دئے انہیں پارٹی کے سینئیر رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ یاد رہے کہ قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے شہباز شریف کے خلاف حکومت کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین شہبازشریف کوعہدے سے ہٹانے کے معاملے میں اخترمینگل کاووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎