ملک ریاض نے بھری عدالت میں چیف جسٹس کو گھر کی رشوت دینے کا کہہ کر انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا

اسلام آباد — جعلی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عوامی دلچسپی عروج پر تھی اور بڑی تعداد میں وکلا اور میڈیا اس کیس کی کارروائی سننے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت کھچاکھچ بھری ہوئی تھی اور بہت سے افراد کھڑے ہوکر کیس کی سماعت سنتے رہے۔


سماعت کے دوران بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی پیش ہوئے جنہیں عدالت نے اس کیس میں طلب کر رکھا تھا۔

چیف جسٹس نے ملک ریاض کو مخاطب کر کے کہا کہ ہر برے کام میں آپ کا نام کیوں آجاتا ہے، اس پر ملک ریاض سٹپٹا گئے اور کہا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے آپ کو ایک ہزار ارب کا کہا تھا، اب 500 ارب روپے دے دیں ہم آپ کو صاف کر دیتے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے مالک بولے میں نے پورے 22 سالہ کیریئر میں ہزار یا گیارہ سو ارب کی سیل کی ہوگی۔ آپ حکم کریں گے تو ہم سیٹل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آپ میرے بیٹے علی ریاض والا گھر لے لیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے کب آپ سے علی والا گھر مانگا؟ اس پر بظاہر عدالتی دباؤ کے شکار ملک ریاض نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ نے اس گھر کا ذکر کیا تھا۔ آپ کو مزید جو لینا ہے بتا دیں میں دینے کو تیار ہوں۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کراچی کے باغ ابن قاسم کی زمین پر تجاوز کر کے قبضہ کر لیا جس پر ملک ریاض نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق وہ پلاٹ حاصل کیا۔ یہ پلاٹ ڈاکٹر ڈنشا سے خریدا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسی طریقے سے لیا گیا جیسے ملیر کی زمین حاصل کی گئی۔ سارا کچھ ملی بھگت سے کیا گیا۔ محکمہ مال اور دیگر اعلی عہدیدار ملے ہوئے تھے ۔

ملک ریاض نے کہا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس ملک کو چلاتے رہے ہیں، حکومتیں بناتے اور گراتے رہے ہیں جس پر ملک ریاض نے تردیدی انداز میں کہا کہ میں نے اس ملک کو کبھی نہیں چلایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اپنی بقیہ زندگی کیلئے کتنے ارب چاہئیں؟ وہ لے لیں اور باقی اس ملک کو چھوڑ دیں۔

ملک ریاض کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ باغ قاسم کی زمین قانون اور قواعد کے مطابق حاصل کی۔ اس پر بنائے گئے دونوں ٹاورز تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے بنائے گئے۔ غیر قانونی ہونے کی جے آئی ٹی کی رپورٹ سراسر غلط ہے ۔

ملک ریاض بولے کہ میں نے اس ملک کو سترمنزلہ بلڈنگ دی ہے۔ یہ دونوں ٹاور بلند ترین ملکی عمارت ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ باغ ابن قاسم ہو، ملیر کی زمین ہو، تخت پڑی راولپنڈی ہو، بحریہ انکلیو ہو، ہنڈی کا کام ہو، جہاں ہاتھ ڈالتے ہیں وہاں ملک ریاض نکلتا ہے۔،

ملک ریاض کے وکیل طارق رحیم نے کہا کہ یہ پلاٹ ہم نے بہت پہلے لیا تھا۔ 1980 میں زرداری کہاں تھا؟ وہ تو بمبینو سینما چلاتا تھا۔

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ زیادہ جذباتی نہ ہوں، ملک ریاض سے پوچھ لیں یہ 1984 میں کہاں تھا۔ اس نےہر کام کے لیے پہیے لگائے۔ میں بتا دوں کہ اس کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہوں۔ میں نے ایک ہزار ارب کہا تھا، آپ 500 ارب دیدیں۔ میں عمل درآمد بنچ کو کہہ دوں گا بلکہ خود عمل درآمد بنچ میں بیٹھ کر سن لوں گا۔

ملک ریاض نے مزید وضاحت دینے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، بحریہ کراچی کی لائٹس بند کیں، بحریہ کے ہزاروں ملازمین کو اکسا کرعدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، اب نیب ملک ریاض کو دیکھے گا۔

کمرہ عدالت میں میڈیا کے کردار پر بھی شدید اعتراض کیا گیا جب اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ دنیا ٹی وی پر کامران خان شو میں جے آئی ٹی کی رپورٹ چلا دی گئی۔ اس پر چیف جسٹس بولے کہ میڈیا اس کیس کو خود چلا لے، کامران خان کو سربراہ بنا دیتے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎