جان بخشی کا کوئی امکان نہیں، جیل بھیجنے کے بعد خادم رضوی کیخلاف مزید سخت ایکشن لے لیا گیا

ملزمان پر مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ سے بریت کے فیصلے کیخلاف احتجاج کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، عوام الناس کو اکسانے اور قومی اداروں کیخلاف تقاریر کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے


 انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قومی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کیس میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت 4ملزمان کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے ایڈمن جج شیخ سجاد نے کیس پر سماعت کی۔

پولیس کی جانب سے علامہ خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری، علامہ اعجاز اشرفی اور علامہ فاروق الحسن کو سنٹرل جیل کوٹ لکھپت اور سنٹرل جیل گوجرانوالہ سے لا کر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزموں کو تھانہ سول لائن لاہور میں پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

خادم حسین رضوی کو وہیل چیئر پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کی جانب سے وکیل مرتضی علی پیر زادہ، طاہر منہاس اور ناصر منہاس عدالت میں پیش ہوئے۔انسداد دہشت گردی عدالت نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت 4ملزمان کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ علامہ خادم حسین رضوی کی پیشی کے وقت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

ایس پی سول لائنز خود بھی موقع پر موجود رہے اور تمام سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کرتے رہے۔ جبکہ تحریک لبیک کے کارکنوں کی بڑی تعداد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے باہر موجود تھی جنہوں نے اپنے رہنمائوں کے حق میں نعرے بازی کی اور سڑک پھولوں کی پتیوں سے سرخ کر دی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎