علیم خان کی گرفتاری کے بعد مزید3افراد نیب کے ریڈارپرآگئے،اگلی باری کس کی ہے؟ چیئرمین نیب نے منظوری دے دی

 مقصد کسی کی عزت نفس کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہوتا


معروف قومی روزنامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے تین حکومتی اداروں کے سابق سربراہان کے خلاف عنقریب کارروائی شروع ہونے والی ہے۔ اس بات کا فیصلہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب ایگزیکٹو بورڈ اجلاس (ای بی ایم) میں کیا گیا۔اخباری رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے جن 3 ریفرنسز کی منظوری دی گئی ہے، ان میں سے ایک کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے سابق چیئرمین وائس ایڈمرل (ر) احمد حیات اور اُن کے دیگر ساتھیوں کے خلاف ہے۔

 

 

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے مبینہ طور پر ریاستی زمین الاٹ کر کے قومی خزانے کو 18ارب 18 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ جبکہ دُوسرا ریفرنس خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی اور دیگر کے خلاف فائل کیا جائے گا، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گاڑیوں اور ایندھن کی خریداری کے لیے مختص رقم کا غلط استعمال کیا، جس سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 34 لاکھ 80 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔

تیسرا ریفرنس سند ھ کےَ ضلع خیر پور میں مشرقی ڈویژن کے محکمہ آبپاشی کے ایگزیکٹو انجینئر ایاز احمد اور دیگر کے خلاف دائر کیا جائے گا۔ کیونکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف مدات میں سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا اور اپنے من پسند افراد کوکنٹریکٹس سے نواز کرقومی خزانے کو 8 کروڑ 93 لاکھ روپے کا بھاری نقصان پہنچایا۔ اجلاس کے دوران فرنٹیئر کور کے سابق انسپکٹر جنرل ملک نوید خان کے خلاف تفتیش کی منظوری بھی دی۔

اس کے علاوہ میاں راشد شہید میموریل ہسپتال، پبی، نوشہرہ اور دیگر کے افسران اورحکام کے خلاف بھی انکوائریز کو ہری جھنڈی دکھائی گئی۔ نیب ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بورڈ اجلاس میں لیے گئے تمام فیصلوں کی تفصیلات واضح ہوتی ہیں۔ تاہم اس کا مقصد کسی کی عزت نفس کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہوتا۔ نیب نے ان کیسز پر شکایات اور مبینہ افراد کوسُن کر متعلقہ الزامات کا پتہ لگایا ہے، جس کے بعد ان مقدمات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎