اقوامِ متحدہ کے ہر 3 میں سے ایک ملازم کو جنسی ہراساں کیے جانے کا انکشاف

دنیا کے تمام ممالک میں رونما ہونے والے واقعات، تنازعات، معاملات اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے اہم ترین ادارے اقوامِ متحدہ (یو این ) میں گزشتہ 2 برس کے عرصے میں ہر 3 میں سے ایک ملازم کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔


فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اقوامِ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یو این کے عملے کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا کہ اس تحقیق میں کچھ سنجیدہ نوعیت کے اعداد و شمار اور شواہد موجود ہیں جنہیں تبدیل کیے جانے کی ضرورت ہے تا کہ ادارے میں کام کی بہتر جگہ فراہم کی جائے۔

اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً ہر 3 میں سے ایک فرد نے گزشتہ 2 سال کے عرصے میں کم از کم ایک مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے اقدام کا ذکر کیا۔

رپورٹ کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کرنےکے سب سے عام طریقہ کار میں جنسی کہانیاں سنانا، ناپسندیدہ مذاق کرنا، کسی کی ظاہری شخصیت، جسمانی خدو خال یا حرکات و سکنات پر نامناسب تبصرہ کرنا شامل ہیں۔

ڈیلوئٹے کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ یو این عملے کو زبردستی جنسی معاملات کے بارے میں گفتگو کا حصہ بننے، نامناسب انداز میں چھونے اور اشاروں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

سروے کے مطابق ہراساں کرنے والے ہر 3 میں سے دو شخص مرد اور ہر چار میں سے ایک کوئی سپروائزر، یا مینجر تھا جبکہ ہراساں کرنے والے ہر 10 افراد میں سے ایک انتہائی اہم عہدیدار تھا۔

تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سروے میں محض 17 فیصد افراد سے حصہ لیا جبکہ 30 ہزار 3 سو 64 ملازمین کو خفیہ سوالنامہ ارسال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ملازمین کو ارسال کیے گئے خط میں سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ جو دنیا بھر میں مساوات، عزت و وقار، اور انسانی حقوق کی پاسداری کا استعارہ ہے اس کا میعار یقیناً بلند ہونا چاہیے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس فروری میں اقوامِ متحدہ نے عملے کے لیے ایک 24 گھنٹوں کی ہیلپ لائن متعارف کروائی تھی جس پر وہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت درج کرواسکتے ہیں جس کا جائزہ یو این کے تفتیشی افسران لیں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎