چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شہبازشریف نے بھی یو ٹرن لے لیا

 پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین شہبازشریف نے مختلف مقدمات پر فی الحال نیب سے بریفنگ نہ لینے کا فیصلہ کیاہے۔چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی شہباز شریف کی زیرصدارت پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آڈیٹر جنرل پاکستان کے نمائندے نے مختلف معاملات پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔


آڈیٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں394 ارب73 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی۔

شہباز شریف نے گرینڈ حیات، رائل پام کلب لاہور اور نیواسلام آباد ائیرپورٹ منصوبوں میں بے قاعدگیوں کا جائزہ لینے کے لیے سید فخر امام کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔

آڈیٹر جنرل پاکستان جاوید جہانگیر نے کمیٹی کو آڈٹ نظام پر بریفنگ دی۔

تحریک انصاف کے ایم این اے اعجاز احمد شاہ نے سوال کیا کہ کمیٹی بدعنوانی کے مرتکب ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کب عمل میں لائے گئی، جس پر مسلم لیگ نون کے شیخ روحیل اصغر نے کہا کمیٹی ایس ایچ او تو ہے نہیں ، تجاویز اورسفارشات ہی دے سکتی ہے، اگر پکڑ سکتے ہو تو جا کر گرینڈ حیات ہوٹل اور گالف کلب کے ذمہ دار پرویز مشر ف کو پکڑ لو۔

شہبا زشریف نے مداخلت کرتے ہوئے بحث ختم کروائی۔

چیئرمین پی اے سی نے مختلف مقدمات پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے فی الحال بریفنگ نہ لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔سیکریٹری پبلک اکائونٹس کمیٹی افتخار رحیم خان نے کہا کہ بریفنگ ملتوی کرنا شہبازشریف کا فیصلہ ہے۔

واضح رہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شہبازشریف نے گالف کلب سمیت دیگر مقدمات پر نیب کو منگل کو بریفنگ دینے کی ہدایت کی تھی۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آڈٹ کی وجہ سے 2013 سے 2018 تک 394 ارب 73 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی، تاہم آڈیٹر جنرل آف پاکستان 100 فیصد حسابات کا آڈٹ نہیں کرسکتا، 18 فیصد حسابات کا آڈٹ ہی ہوسکتا ہے۔

شہباز شریف نے آڈٹ کے نظام کی بہتری کے لیے ایم این اے شاہدہ اختر علی کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بنادی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎