سانحہ ساہیوال:عثمان بزدار پرتنقیدکرنا نجی ٹی وی چینل کو مہنگا پڑ گیا، پیمرا نے ٹی وی چینل کے خلاف سخت ایکشن لے لیا

حامد میر کے سخت بیانات کے آن ائیر ہونے پر نجی ٹی وی چینل کو پیمرا کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔


تجزیہ کاروں نے وزیراعلیٰ پنجاب پر بے جا تنقید کی جو الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015ء کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ پیمرا کی جانب سے بارہا ٹی وی چینلز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ آن ائیر کیے جانے والے مواد پر کڑی نظر رکھیں۔

 پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر تنقید کو آن ائیر کرنے پر نجی ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹسز جاری کر دئے۔ تفصیلات کے مطابق پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو جاری شوکاز نوٹسز میں کہا گیا کہ 20 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب کے سانحہ ساہیوال کے زخمی بچے کی عیادت کے لیے جانے پر چینل 24 نے ایک بریکنگ نیوز چلائی جس میں تجزیہ کاروں کا موقف لیا گیا۔

19 جنوری کی رات کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گذشتہ روز سانحہ ساہیوال میں زخمی ہونے والے بچے عمیر خلیل کی عیادت کے لیے اسپتال کا دورہ کیاجہاں انہوں نے زخمی عمیر خلیل کو پھول پیش کیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے زخمی اور یتیم بچے کو پھول دینے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سینئیر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے اس رویے پر میں کیا کمنٹ کروں؟ ایسا لگتا ہے کہ ان کی عقل کہیں چھُٹی پر چلی گئی ہے۔

اگر عمیر کی جگہ میں ہوں اور میرے والدین کی ہلاکت ہوئی ہو، میں اسپتال میں زیر علاج ہوں اور کوئی پھول لے کر آجائے، اگر میں ہوش میں ہوں گا تو پھول لانے والے کے منہ پر یا تو جوتا ماروں گا یا پھر تھپڑ ماروں گا اور اسے کہوں گا کہ یہاں سے نکل جاؤ، تمہیں تمیز نہیں ہے کہ یہاں میرا باپ مر گیا ، میری ماں مر گئی ، میری بہن مر گئی اور تم یہاں پھول لے کر آگئے ہو۔

لیکن وہ بچہ عمیر اس وقت سویا ہوا تھا اور اس کو تو علم نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پھول لے کر میرے زخموں کا مذاق اُڑانے آ گئے ہیں۔ میں اس پر یہی کہہ سکتا ہوں کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی عقل اور فہم و فراست فوت ہو گئی ہے اور وہ اپنی عقل اور فہم و فراست کی تدفین کے موقع پر آئے تھے اور اسی کی قبر پر پھول چڑھا رہے تھے ۔ کیونکہ اس طرح کسی کے زخموں اور تکلیف کا مذاق اُڑاتے میں نے کسی کو نہیں دیکھا اور حیرانگی اس بات کی ہے کہ ان کے ارد گرد جو بیوروکریٹس ہیں ان کے چہروں پر کوئی دکھ یا تکلیف نہیں ہے۔

یہ بات بہت عجیب و غریب ہے کہ ایک تو صبح کا واقعہ تھااور وزیراعلیٰ رات کو پہنچے اور پھر انہیں کیا یہ علم نہیں تھا کہ جس بچے کی وہ عیادت کرنے جا رہے ہیں اس کا باپ ، ماں اور بہن ماری جا چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ کی پھول کیوں لے کر آئے؟ میرے نزدیک وزیراعلیٰ کا پھول لے کر جانا کسی کے زخموں کا مذاق اُڑانے کا مترادف ہے۔ اور اس شرمناک حرکت پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہئیے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎