صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام ۔۔۔۔جو کام حکومت نہ کرسکی وہ مسلم لیگ (ن) نے کردکھایا

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب کے عوام سے کئے گئے اپنے وعدے کی تکمیل کردی ہے


 ن لیگ نے قومی اسمبلی میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیمی بل جمع کرا دیا۔ بل احسن اقبال، رانا تنویر، رانا ثناءاللہ خان، عبدالرحمٰن کانجو نے اپنے دستخطوں سے سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرایا۔

 آئینی ترمیم میں لکھا گیا ہے کہ بہاولپور صوبہ موجودہ انتظامی ڈویژن پر مشتمل ہوگا جبکہ جنوبی پنجاب صوبہ ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژن پر مشتمل ہوگا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ترمیم کے بعد ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژن صوبہ پنجاب کی حد سے نکل جائیں گے۔ آئینی ترمیمی بل کے مطابق آئین کے آرٹیکل 51 میں ترمیم سے صوبائی نشستوں میں ردوبدل کیاجائے۔ ترمیم کے بعد بہاولپور صوبہ کی15 جنرل ، خواتین کی تین نشستیں ملا کر قومی اسمبلی میں کل اٹھارہ نشستیں ہوجائیں گی جبکہ بلوچستان کی 20، جنوبی پنجاب صوبہ کی 38، خیبرپختونخوا کی 55، صوبہ پنجاب کی 117، صوبہ سندھ کی 75 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی قومی اسمبلی میں تین نشستیں ہوں گی۔ ترمیم کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 326 ہوگی جس میں 266جنرل نشستیں اور 60 خواتین کی نشستیں ہوں گی۔ جنرل الیکشن 2018ءمیں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے منتخب شدہ ارکان قومی اسمبلی اور پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب ہونے والی خواتین موجودہ اسمبلی کی مدت مکمل ہونے تک اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں گی لیکن موجودہ اسمبلی کی مدت کی تکمیل کے ساتھ یہ کلاز ختم ہوجائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ ہم احتساب سے کبھی نہیں بھاگے ہمارے دور میں معاشی گروتھ کے عالمی ادارے معترف تھے، ٹویٹر پر ملک نہیں چلا کرتے عملی اقدامات کرنے پڑتے ہیں، اپوزیشن اپنا متحرک جمہوری کردار ادا کرتی رہے گی۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎