ن لیگ کے برے دن، مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی افضل کھوکھر، رکن صوبائی اسمبلی سیف الملوک کھوکھر کے خلاف ناجائز قبضوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔


اس دوران دونوں لیگی رکن اسمبلی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

سماعت کے بعد کمرہ عدالت سے نکلتے ہی پولیس نے قبضے کے مقدمے میں ایم این اے افضل کھوکھر کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ نواب ٹاؤن میں مقدمہ درج ہے اور یہ مقدمہ قبضے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ برطانیہ میں مقیم محمد علی ظفر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں موقف اپنایا گیا کئی سال قبل طارق محمود نامی شخص سے 34 مرلہ زمین خریدی تھی، اب اس جگہ پر افضل کھوکھر کی رہائشگاہ کھوکھر پیلس بن چکا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق عدالت نے حکم دیا تھا کہ جس کی بھی زمین پر قبضہ ہے وہ متعلقہ پولیس افسر کو درخواست دے، لندن میں مقیم ہونے کے باعث پاکستان نہ آنے پر کیس لڑنے کا اختیار فیض احمد نامی شخص کو دے رہا ہوں۔

قبل ازیں دوران سماعت عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو افضل کھوکھر کے بڑے بھائی شفیع کھوکر سے 2 گھنٹے میں تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ آپ گھبرائیں مت گرفتار نہیں کیا جارہا، صرف ڈی جی اینٹی کرپشن نے تفتیش کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی اینٹی کرپشن سپریم کورٹ میں ہی شفیع کھوکھر سے تفتیش کرکے رپورٹ دیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے شفیع کھوکھر سے مکالمہ کیا کہ آپ نے پٹواریوں کو ساتھ ملا کر لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا، جس پر شفیع کھوکھر نے کہا کہ مجھے آپ سے انصاف کی توقع ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف بھی ہوگا اور سزا بھی اسی عدالت سے ہوگی، آج تک جو کرتے رہے اس پر خدا کا خوف نہیں آیا، بیواؤں اور یتیموں کی زمینیں ہڑپ کر گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں ہمیشہ سے آپ کو جاتنا ہوں، بتائیں ارب پتی کیسے بنے، آپ لوگ اپنے علاقے کے بادشاہ بنے ہوئے تھے لوگ آپ کے خلاف عدالت جانے سے ڈرتے تھے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎