20 لاکھ افراد کو روزگارکی فراہمی، حکومت نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کر دکھایا

ڈائریکٹ سیلنگ ایسوسی ایشن پاکستا ن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ راشد عالم نے کہا ہے کہ ڈائریکٹ سیلنگ اینڈ نیٹ ورک مارکیٹنگ بل 2019ء قومی اسمبلی میں پیش ہونے جا رہا ہے اس بل کی منظوری کے بعدوفاقی حکومت کے ماتحت ایک خود مختار ادارہ ڈائریکٹ سیلنگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے بعد پاکستان معاشی ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا۔


شیخ راشد عالم نے کہا کہ ڈی ایس اے پی نے تین سالوں کی انتھک محنت کے بعد تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ڈائریکٹ سیلنگ کا بل 2019ء وفاقی وزارت قانون و انصاف کو پیش کیا جس کا بغورجائزہ لینے کے بعد وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹرڈاکٹر فروغ نسیم نے اس بل کو قومی اسمبلی کے باقاعدہ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

شیخ راشد عالم نے مزید کہا کہ پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں اقتصادی اور معاشی مسائل سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس بل کی منظوری کے بعد پاکستان میں اقتصادی اور معاشی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی اور ملک ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹ سیلنگ اتھارٹی کے قیام سے اس انڈسٹری میں پائی جانے والی بے چینی اور غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ممکن ہوگااور اس سے عالمی سطح پر اعتماد کی ایسی فضا قائم ہوگی جس کی بدولت ہمارے پڑوسی ممالک چین،بھارت، ملائشیا،متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک میں سرگرم عمل ڈائریکٹ سیلنگ کے شعبہ سے وابستہ تین ہزار سے زائد اچھی شہرت کی حامل ملٹی نیشنل کمپنیاں فوری طور پر پاکستان کا رخ کریں گی۔

جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم 20لاکھ سے زائد افراد کو مستقل روزگاراور اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے مواقع میسر آئیں گے،ملک میں انٹر پرینور شپ کو تیزی سے فروغ حاصل ہو گا اور پچاس فیصد سے زائدپر مشتمل خواتین کی آبادی کو گھر بیٹھے کاروبار کر نے کے مواقع میسر آئیں گے،ملک کے معاشی استحکام میںسی پیک کے ذریعے تبدیلی کا جو خواب دیکھا جا رہا ہے اس ضمن میں ڈائریکٹ سیلنگ انڈسٹری بھی یقینا ایک کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے ملک میں براہ راست فروخت کی صنعت کو فروغ دے کر اس تبدیلی کو جلد از جلد یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

 حالیہ منعقدہ سروے کے مطابق ایک ارب 30کروڑ سے زائد افراد اس طریقہ کاروبار سے منسلک ہیں جنہوں نے اس انڈسٹری کو باقاعدہ مستقل پیشہ کے طور پر اپنایا ہوا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال اس انڈسٹری کا کاروباری حجم 200ارب امریکی ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ طریقہ تجارت کس تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎