حقیقی بیماری یا عوام کی ہمدردی؟ نواز شریف کی صحت کے متعلق اندر کی خبر آگئی

 مریم نواز میڈیا اور ٹویٹر پرنوازشریف کی صحت کے حوالے سے سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے من گھڑت کہانیاں بیان کررہی ہیں،


میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے شریف فیملی کوکبھی بھی نوازشریف سے ملاقات کرنے سے انکار نہیں کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہبازگل نے کہا ہے کہ نوازشریف کی صحت سے متعلق مریم نوازکی خبرمن گھڑت ہے،مریم نوازسیاسی مفاد اور عوام سے ہمدردی حاصل کرنے کیلئے یہ سب کچھ کررہی ہیں،نوازشریف کا طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے،اور فیملی جب چاہے ملاقات بھی کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پر ویڈیو پیغام میں بتایا کہ مریم نواز میڈیا اور ٹویٹر پرنوازشریف کی صحت کے حوالے سے سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے من گھڑت کہانیاں بیان کررہی ہیں، کہ نوازشریف کو مناسب طبی امداد نہیں دی جارہی اور ان کی فیملی کا نوازشریف سے رابطہ نہیں کروایا جارہا ہے۔

عموماًشریف فیملی کے افراد نوازشریف سے جمعرات کو ملتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی ان کے خاندان کے افراد جب بھی نوازشریف سے ملنا چاہیں مل سکتے ہیں۔

اگر انہیں کوئی پریشانی ہے تومیں ان سے کہتا ہوں کہ وہ ابھی رابطہ کریں ابھی ان کی ملاقات کروائیں گے۔

مریم نوازسے درخواست ہے کہ جھوٹ پر مبنی خبریں نہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی طبیعت کے بارے بتا دوں کہ نوازشریف کو جیل کا ڈاکٹر روزانہ چیک کرتا ہے جبکہ ان کے ذاتی معالج نے بھی چیک کیا اور ٹیسٹ کرنے کی تجویز پیش کی۔ جس کی بنیاد پر جیل میں پی آئی سی ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا۔جس کے باعث ان کے ٹیسٹ منگل کے روز مزید ٹیسٹ کروائے گئے ہیں۔

میڈیکل بورڈ نے ہدایت کی انہیں نمک کے بغیر خوراک دی جائے،بورڈ کی ہدایات کے مطابق فوری عمل کیا جارہا ہے۔ اسی طرح ہمیں لارجربورڈ کیلئے آج ہی خط موصول ہوا ہے۔ ہم نے فوری لارجر بورڈ بنانے کا کہہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بلیک میلنگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔عوام کے سامنے اپنی بیماری سے بینیفٹ لینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میں مریم نوازسے گزارش کرتا ہوں کہ ایسا مت کریں،آپ کی جھوٹی خبرسے مجھے میڈیا پر لوگوں کو بتانے کیلئے آنا پڑتا ہے۔

عوام اور افسران کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ دوسری جانب نجی ٹی وی نے بتایا ہے کہ نوازشریف کی صحت دن بدن بگڑنے لگی ہے۔نوازشریف کو دل کے دورے کی میڈیکل رپورٹس میں تصدیق بھی ہوچکی ہے۔لیکن اس کے باوجود تاحال نوازشریف کے علاج میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

اسی طرح طبی ماہرین نے بھی نوازشریف کو دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی تصدیق کردی ہے۔پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سینئر ڈاکٹر بلال ذکریاکا کہنا ہے کہ نوازشریف کی انجیوگرافی ہونی چاہیے تھی۔ٹراپ ٹی ٹیسٹ پازیٹو آنے کی صورت میں اانجیوگرافی ہونی چاہیے تھی۔تھیلیم اسکین میں بھی دل کی تکلیف لاحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎