’سلمان رشدی نے برطانوی نسل کو بنیاد پرست بنایا‘

یہ سنہ1989 کا ویلنٹائن ڈے ہے۔ مارگریٹ تھیچر وزیراعظم ہیں اور بہت دور ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں برطانوی مصنف سلمان رشدی کی موت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کا برطانیہ کے نوجوان مسلمانوں پر گہرا اثر پڑتا ہے.


الیاس کرمانی ہر اس چیز سے لطف اندوز ہو رہے تھے جو ایک طالب علم کی زندگی میں رونما ہوتی ہے۔ وہ جنوبی لندن کے علاقے ٹوٹنگ میں ایک روایتی پاکستانی گھر میں پلے بڑھے تھے، ان کے والد ایک بس ڈرائیور اور ٹریڈ یونینسٹ تھے۔ مذہب الیاس کی پرورش کا ایک اہم حصہ تھا، لیکن ایسی چیز نہیں جس میں وہ خاص طور پر دلچسپی رکھتے ہوں۔

وہ کہتے ہیں ’ہم اپنے والدین کے فرمانبردار تھے۔ جب ضرورت پڑتی تو ہم مسجد بھی چلے جاتے تھے، مگر درحقیقت ہم ایک دوہری زندگی جی رہے تھے۔ ہم پارٹی کرتے، تمباکو نوشی، لڑکیوں کے ساتھ باہر جاتے اور وہ سب کچھ جو ہم ممکنہ طور پر کر سکتے تھے۔‘

لہٰذا جب یونیورسٹی کے انتخاب کا وقت آیا، الیاس اپنی پاکستانی مسلم شناخت سے بھاگتے ہوئے شمال میں 400 میل دور گلاسگو کی طرف نکل گئے۔

وہ کہتے ہیں ’میں جتنا تیز بھاگ سکتا تھا، بھاگا۔ مجھے اپنی پاکستانی شناخت سے نفرت تھی۔ میں گندمی رنگت والے دوست نہیں چاہتا تھا۔ میرے تمام دوست سفید فام ،لبرل قسم کے تھے۔ یہ میرے لوگ تھے۔'

یہ بھی پڑھیے

گلاسکو میں الیاس کے مطابق ’میرا بہت اچھا وقت گزر رہا تھا لیکن پھر سنہ 1989 میں کچھ بہت ہی حیرت انگیز ہوا۔‘

میری زندگی میں خلل ڈالنے والی چیز آیت اللہ خمینی کا فتویٰ تھا جو سلمان رشدی پر ان کے ناول، شیطانی آیات کے لیے لگایا گیا تھا۔ اس ناول کو مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر انتہائی گستاخانہ تصور کیا گیا۔ جہاں الیاس کو یہ نہیں لگتا تھا کہ رشدی کو مار دینا چاہیے وہیں وہ شیطانی آیات کو بھی درست نہیں سمجھتے تھے۔ اب انھوں نے خود کو ایک ایسے فتوے کے ردعمل میں گرفتار پایا جس سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔

میرا خیال تھا یہ دوست مجھے سمجھتے ہیں اور انھوں نے مجھے قبول کر لیا ہے لیکن اب وہ مجھ پر انگلیاں اُٹھا رہے تھے۔ اسں طرح کی باتیں کی جا رہی تھیں: ’تم لوگوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ تم ایسے کیوں کر رہے ہو؟ تم نے سلمان رشدی کو موت کی دھمکی کیوں دی ہے؟ تم کس طرف ہو؟ تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف؟‘

الیاس ان مساجد سے گریز کرنے لگے تھے، جنھیں سنہ 1980 کی دہائی میں تقریباً مکمل طور پر ایسے جنوبی ایشیائی مرد چلاتے تھے جن کی پہلی زبان انگلش نہیں تھی۔ پس الیاس نوجوان، انگریزی بولنے والے مسلمانوں سے اسلامی رہنمائی لینے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور اسے پا بھی لیا۔

ان کی رہنمائی میں، الیاس نے اپنے والدین کے مذہب سے دوبارہ ناتا جوڑا، لیکن وہ انھیں ایک انتہاپسندانہ سمت میں لے گئے، ذاتی اخلاقیات یا روحانیت حاصل کرنے کی بجائے ان کا مقصد عالمی مسلم شناخت بن گیا۔

وہ کہتے ہیں ’یہ ثقافت کے برعکس تھا۔ اس کا اپناایک ضابطہِ لباس اور زبان تھی۔ میں نے اپنے غیرمسلم دوستوں کو چھوڑ دیا اور جب میں نے یونیورسٹی چھوڑی تو خود کو مکمل طور پر تحریک کے لیے وقف کر دیا۔‘

’یہ سب شیطانی آیات کی اشاعت سے شروع ہوا اور لوگوں نے کس طرح مجھے دور دکھیلا۔ اسی لیے میں ہمیشہ سے کہتا ہوں کہ میں رشدی کی اولاد میں سے ایک ہوں۔ مجھے سفید فاموں نے بنیاد پرست بنایا۔‘

الیاس جن سلفی خیالات کے پیروکار بن گئے تھے وہ روایتی جنوبی ایشیائی اسلام کے مقابلے میں زیادہ انتہا پسندانہ ہیں۔ الیاس جن لوگوں سے منسلک تھے ان میں سے کچھ بوسنیا کی فوج کے ارکان کے طور پر بوسنیا لڑنے نکل گئے، الیاس نے خود کبھی جنگ کا میدان نہیں دیکھا، ان کے مطابق ان کی صلاحیتیں ’نظریات کو فروغ دینے میں بہتر تھیں۔‘

آج، الیاس نے اپنے موقف کو کچھ نرم کر دیا ہے۔ پرانے وقتوں میں ہمیں دو ہی آپشن نظر آتی تھیں: اچھی یا بری۔ حمایت میں یا مخالف۔ حلال یا حرام۔ وہ کہتے ہیں ’اب مجھے درمیانی راستہ پسند ہے۔‘

وہ ایک پرہیزگار مسلمان ہیں جو ’درمیانی راستے‘ کا حامی ہے۔ وہ ایک غیر روایتی امام اور ماہرِ نفسیات ہیں۔ ان کے اجتماعات ہڈرزفیلڈ اور بریڈفورڈ میں منعقد ہوتے ہیں جن میں وہ جنسی تعلقات اور ذہنی صحت تک ہر معاملے پر مشورہ دیتے ہیں۔

ایڈ حسین، الیاس سے چند سال ہی چھوٹے تھے جب شیطانی آیات شائع ہوئیں۔ وہ ابھی سکول میں ہی تھے جب ایک دن ان کے والد ہائیڈ پارک میں اس کتاب کے خلاف احتجاج کرنے، انھیں بھی ساتھ لے گئے۔ انھیں یاد ہے وہ کافی پرجوش تھے۔

گلاسگو، بریڈفورڈ، برمنگھم اور دیگر مقامات سے مسلمانوں سے کچھا کچھ بھری گاڑیاں اس مظاہرے میں پہنچیں۔ تقریباً 20 ہزار کے قریب افراد وہاں آئے تھے۔ اجتماعی عبادتیں، جو زیادہ تر مساجد کے اندر ہوتی تھیں، اب لندن کی عوامی جگہوں پر آ گئی تھیں۔ رشدی کے پتلے نذرِ آتش کیے جا رہے تھے اور تشدد کی دھمکیوں سے بھرے اشتہارات عام تھے۔

جب ایڈ کے والد نے ہائیڈ پار ک میں لوگوں کو شیطانی آیات جلاتے دیکھا تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب چلے جانا چاہیے۔ گھر پر ایڈ کے والد نے انھیں بتایا کہ ہم ’اس طرح کے مسلمان'‘نہیں ہیں لیکن مظاہروں نے ان کی دلچسپی کو بڑھا دیا تھا۔ انہوں نے اپنے والد کے بغیر بھی مشرقی لندن کی مسجد میں جانا شروع کر دیا اور وہاں وہ ان انگریزی بولنے والے اماموں سے متاثر ہوگئے جو سیاسی بات چیت کرنے پر خوش تھے۔

یاسمین علی بھائی جو اس وقت نیو سٹیٹسمین میں ایک صحافی تھیں، ان کے لیے سلمان رشدی ایک ہیرو تھے۔ نہ صرف ان کی کتاب کی وجہ سے بلکہ اس لیے بھی کہ انھوں نے کھلے عام برطانیہ میں نسل پرستی پر بات کی۔ لہٰذا انھوں نے یہ کتاب پڑھی۔

یاسمین کہتی ہیں ’مجھے برا نہیں محسوسں ہوا۔ میں اس طرح کی مسلمان نہیں ہوں لیکن میں نے سوچا ضرور کہ ’آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘ مجھے یہ جان بوجھ کر اشتعال دلانے والی لگی۔‘

جب مسلمانوں نے کتاب کو جلانا شروع کیا، یاسمین کے بہت سے سفید فام دوست اس سے ناخوش تھے۔ وہ کہتی ہیں ’بہت جلد یہ ’ہم اور آپ‘ بن گیا۔ رات کے کھانوں پر اگر میں نے رشدی سے غیرمتفق ہونے کے بارے میں کچھ کہہ دیا تو لوگ کھانا چھوڑ کر باہر نکل جاتے۔ یہ اتنا مشکل بن گیا تھا۔‘

یاسمین بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے ’بیداری کا ایک لمحہ‘ کیا تھا۔ میں ایک مسلمان کے طور پر سامنے آ گئی۔ میں نے کہا: ’میں مسلمان ہوں۔ میری ماں مسلمان ہے۔ میرا خاندان مسلمان ہے۔ جن سفید فاموں کے ساتھ میں نے کام کیا وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ انھوں نے مجھے کبھی اس روپ میں نہیں دیکھا تھا۔ یہ ان کے لیے اسے سمجھنا مشکل تھا۔‘

ایڈ کے مطابق ’فتوے نے مشرقی لندن کی مسجد کو زیادہ اہم بنا دیا کیونکہ یہاں سے سب سے زیادہ آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو ڈاؤن سٹریٹ کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے نظریے نے انھیں اہم بنا دیا تھا۔‘

سیاسی اسلام کے لیے یہ نیا جذبہ ایڈ کے والد کی طرف سے دیے گئے ایک الٹی میٹم سے ختم ہو گیا ۔ اگر ایڈ ان کی چھت کے نیچے رہنا چاہتے ہیں تو انھیں اسلامی سیاست کو چھوڑنا ہو گا۔ ایڈ کے لیے یہ ایک صاف انتخاب تھا، ان کے والدین کے آرام دہ اور پرسکون گھر میں رہنا یا عالمی مسلم کمیونٹی کی خدمت۔ انھوں نے گھر سے بھاگ جانے کا انتخاب کیا۔

یہ مہم جوئی مختصر تھی کیونکہ ان کے والد انھیں اپنی چھت کے نیچے واپس چاہتے تھے مگر آنے والے برسوں میں ایڈ کا بنیاد پرستی کے راستے پر سفر جاری رہا۔

وہ کہتے ہیں ’میں اور زیادہ انتہا پسند تنظیموں جیسے حزب التحریر کی طرف چلا گا جو عالمی خلافت پر یقین رکھتے تھے۔‘

ایڈ کی مذہبی شناخت روحانیت کی بجائے عالمی ناانصافی کے تصورات کے نتیجے میں تشکیل پائی۔

’جن پارکوں کو ہم نے سلمان رشدی کے خلاف احتجاج کے لیے استعمال کیا تھا اب وہاں برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے خلاف احتجاج ہو رہے تھے۔ ہم ایک مصنف کی مخالفت سے برطانوی حکومت کی مخالفت پر آگئے تھے۔ ہم مکمل طور پر سیاسی بن گئے تھے۔‘

کالج کے دوران ایڈ نےایک نوجوان لڑکے پر مہلک حملہ ہوتے دیکھا جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مسیحی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ ’مسلم پرست ذہنیت‘ کا نتیجہ تھا۔ جس شخص نے اسے ہلاک کیا وہ کیمپس میں آیا اور کہا ’تمھیں اگر کافر (غیر مسلم) کوئی تکلیف دیں تو مجھے بلا لینا۔‘ کچھ ہفتوں بعد میں نے اس بچے کو چھریوں کے وار سے زخمی ہو کر سڑک پر تڑپتے دیکھا۔‘

یہ بیداری کا وقت تھا۔ ایڈ کو احساس ہوا کہ اپنے عقیدے سے متعلق ہر وہ چیز جو انھیں عزیز تھی، اسے وہ بھول چکے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎