سرفراز احمد کے نسل پرستانہ جملے۔۔معاملہ تاحیات پابندی تک جا پہنچا

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کے خلاف نسل پرستانہ فقرے کسنے پر مشکل میں پھنس گئے ہیں۔


ے۔آئی سی سی کی جانب سے سرفراز کے خلاف ایکشن لیے جانے کا امکان ہے۔آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر کسی بھی کھلاڑی پر نسل پرستانہ جملے کسنے کا الزام ثابت ہوجائے تو اس پر تاحیات پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے ۔

سرفراز احمد پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بھی ہیں اور وکٹس کے پیچھے سے اپنے کھلاڑیوں کو تیز آواز میں ہدایات دینے یا ان پر غصے کا اظہار کرنے یا انہیں شاباشی دینے کے عادی ہیں۔ لیکن ان کی اس عادت نے ان کے لیے مسائل کھڑے کردیے ہیں۔

ڈربن میں منگل کو کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کا پانسہ مخالف ٹیم کے حق میں پلٹتا دکھائی دینے پر سرفراز اس قدر مایوس نظر آئے کہ جنوبی افریقی کرکٹر فیلکوایو پر فقرے بازی کربیٹھے۔

فقرے بھی وہ جو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ بعض لوگوں کے نزدیک ’نسل پرستانہ‘ تھے۔

اردو زبان میں بولے گئے سرفراز کے متنازع فقرے اسٹمپ مائیکرو فون کی مدد سے سب کو سنائی دیے۔ یہاں تک کہ یہ فقرے ٹی وی پر میچ دیکھنے والوں کے کانوں تک بھی پہنچ گئے۔

سرفراز کو ان جملوں پر بطور سزا پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اس پر کوئی نوٹس لے گی یا نہیں۔ فی الحال پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی اس تنازع پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کو تو اردو سمجھ نہیں آئی، اس لیے انہوں نے کسی ردِ عمل کا اظہار بھی نہیں کیا۔ لیکن سوشل میڈیا پر ان فقروں نے طوفان کھڑا کردیا ہے۔

کیا سینئر اور کیا جونیئر کھلاڑی، کیا عام ناظر اور کیا عوام سب مختلف تبصرے کرتے نظر آرہے ہیں۔

’راولپنڈی ایکسپریس' شعیب اختر نے تو سرفراز احمد سے سرِ عام معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔

شعیب اختر نے کہا ہے کہ سرفراز کے فقروں کا سخت نوٹس لیا جائے گا جس پر انہیں معطلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

ماضی کے ایک اور نامور کرکٹر سکندر بخت کا کہنا ہے، "اس طرح کے فقرے معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ قصور وار شخص کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔"

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر اسپورٹس صحافی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرفراز اپنے ہی ساتھی کھلاڑیوں پر بھی اس قدر غصے کے عادی ہیں کہ بہت سے کھلاڑی برا مان جاتے ہیں اور ماضی میں متعدد مرتبہ ایسا ہوچکا ہے۔

ان کے مطابق سرفراز کی سخت کلامی کے چند کیس ریکارڈ پر بھی ہیں۔ ان کے بقول گو کہ سرفراز کے غصے کا مقصد ساتھیوں کو سمجھانا، مشورہ دینا یا رہنمائی کرنا ہوتا ہے لیکن غصہ یا مایوسی ان کے سمجھانے کے انداز پر غالب آجاتی ہے اور اس لیے ان کی اچھی بات بھی برا تاثر چھوڑ جاتی ہے۔

ایک اور سینئر صحافی مشتاق سبحانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سرفراز احمد روانی میں ایسے الفاظ ادا کرگئے ہیں اور انہیں انداز ہی نہیں ہوا کہ ان کے یہ الفاظ کس حد تک نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

ان کے بقول بظاہر سرفراز کا انداز سنجیدہ معلوم نہیں ہوتا نہ ہی ان سے ایسی توقع کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے یہ فقرے سنجیدگی سے کہے تھے۔

مشتاق سبحانی کے مطابق نسل پرستی کے خلاف آئی سی سی کے قوانین موجود ہیں جن کے تحت قصور ثابت ہوجانے کی صورت میں قصوروار کو پہلی مرتبہ ایسا کرنے پر چار سے آٹھ بین الاقوامی میچوں یا ٹی 20 میچز میں معطلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎