”شعیب اختر نے تنقید نہیں کی بلکہ ۔۔۔“ کپتان سرفراز احمد نے راولپنڈی ایکسپریس پر دِل کی بھڑاس نکال لی

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سابق فاسٹ باولر شعیب اختر پر برس پڑے


قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے نسل پرستانہ جملوں پر پابندی کے بعد سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کی تنقید کو ذاتی حملے قرار دے دیا۔

راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور شعیب اختر نے سرفراز احمد کے رویے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سرفراز احمد کو اس جملے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور متعدد شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی ٹیم کے کپتان کے اس رویے پر ان کی سرزنش کرے، جبکہ کچھ لوگوں نے سرفراز پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں متوقع شکست کو دیکھتے ہوئے غصے کے عالم میں جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ایندائل فلکوایو پر 'نسل پرستانہ' جملے کہے تھے جس کو براہ راست سنا گیا تھا۔

بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب اختر نے مزید کہا تھا کہ سرفراز احمد سستے میں چھوٹ گئے ہیں اور سرفراز کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ آئی سی سی کے قانون کو دیکھتے ہوئے ان پر کم میچز کی پابندی لگی ہے۔

آج جنوبی افریقہ سے وطن واپسی پر کراچی ایئر پورٹ پر صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے سرفراز احمد نے کہا کہ شعیب اختر تنقید نہیں کر رہے بلکہ وہ ذاتیات پر حملے کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور مجھے جو سزا ملنی تھی وہ مل گئی۔ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس کیس کو بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کیا اور اس کے بعد جو آئی سی سی نے فیصلہ سنایا وہ سب کے سامنے ہے۔

البتہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر قومی ٹیم کے کپتان پر 4 میچوں کی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے بقیہ میچ اور ٹی20 سیریز کے لیے ٹیم کے سب سے تجربہ کار بلے باز شعیب ملک کو قیادت سونپی دی گئی ہے۔

آئی سی سی نے سرفراز احمد پر اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت پابندی عائد کی ہے جس کے مطابق 'کسی بھی کھلاڑی کو اس کی نسل، مذہب، رنگ اور قومی شناخت کی وجہ سے دھمکانا، حملہ کرنا یا نفرت انگیز جملوں کا تبادلہ کرنا قابل گرفت ہے'۔

اس کے علاوہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے مطابق سرفراز احمد کو آرٹیکل 7.3 کے تحت ان کی جانب سے کیے جانے والے اقدام پر تعلیمی پروگرام کا حصہ بھی بننا پڑے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎