رفع حاجت کے دوران سانپ نے ڈس لیا

آسٹریلیا کے شہر برزبین میں ہیلن رچررڈ کو اس وقت سانپ نے ڈس لیا جب وہ رفع حاجت کے لیے کموڈ پر بیٹھیں لیکن خوش قسمتی سے سانپ زیریلا نہیں تھا۔


59 سالہ ہیلین رچرڈز کے ساتھ یہ واقعہ منگل کے روز برزبین میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں پیش آیا جب ڈیڑھ میڑ میٹر لمبے کارپٹ پائتھن نے ڈس لیا۔

سانپ پکڑنے والی جیسمین زیلینی جنھوں نے سانپ کو ٹوئیلٹ سے نکالا، کا کہنا تھا کہ اس گرم موسم میں سانپوں کا پانی کی تلاش میں ٹوائیلٹ میں آ جانا غیر معمولی بات نہیں۔ یلین رچرڈز نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہیں ایک ’چبھتا ہوا ڈنگ‘ محسوس ہوا۔

انھوں نے دی کوریئر میل نامی اخبار کو بتایا کہ جب مجھے ڈنگ لگا تو میں نے چھلانگ ماری اور جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک لمبی گردن والی کچھوے نما شے کو سر واپس گھسیٹتے دیکھا۔‘

جیسمین زیلینی نے بتایا کہ انھوں نے ہیلین رچرڈز کو سانپ کے ڈسنے سے آنے والے زخم پر جراثیم کُش دوا لگائی۔

جیسمین زیلینی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہیلین رچرڈز کے کموڈ پر بیٹھنے کی بدولت سانپ کا باہر نکلنے کا رستہ بند ہو گیا جس سے خوفزدہ ہو کر اس نے حملہ کر دیا۔

جیسمین زیلینی نے کہا:’میرے پہنچنے تک ہیلین رچرڈز نے سانپ کو قابو کرلیا تھا اور اب تک پُرسکون ہوچُکی تھیں۔ انھوں نے سارے واقعے کو فاتحانہ طریقے سے سنبھالا‘۔

کارپٹ پایتھن آسٹریلیا کہ مشرقی ساحل پر کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ وہ زہریلے نہیں ہوتے لیکن ڈسے جانے کہ بعد ٹیٹنیس کا شاٹ لگوانا لازم ہوجاتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎