سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی اور نظر ثانی کیس کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی اور نظر ثانی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔


 فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کو دستاویزات پیش کرنے کے کئی مواقع دئیے گئے، ان کی نااہلی کے خلاف نظر ثانی خارج کی جاتی ہے۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین ہائیڈ ہاوس کے بینیفشل مالک ہیں، ان کے وکیل عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔ ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق جہانگیر ترین آف شور کمپنی کے لائف ٹائم بینیفشل اور کنڑولر ہیں۔ جہانگیر ترین کے پاس ٹرسٹ سے متعلق فیصلہ سازی کا اختیار ہے۔ ہائیڈ ہاوس کیلئے زمین اور خریداری کیلئے جہانگیر ترین نے پاکستان سے پیسہ بھیجا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہائیڈ ہاوس اور آف شور کمپنی کی ملکیت پر پردہ ڈالا گیا۔

کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی عہدہ رکھنے والوں کیلئے اثاثے اور آمدن کے ذرائع ظاہر کرنا لازمی ہیں، اثاثے چھپانے پر آرٹیکل 62 ون ایف متحرک ہو جاتا ہے۔ مقدمہ میں حقائق چھپانے کی دانستہ کوشش کی گئی۔

تحریری فیصلے قرار دیا گیا ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے کیلئے شفافیت ضروری جبکہ آرٹیکل 62 ون ایف کی روح کیلئے ایمانداری اور عوام کا اعتماد لازمی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جہانگیر ترین کے وکیل نے نظر ثانی مقدمے میں نئی دستاویزات پیش کیں، نظر ثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے، قانون شہادت کے مطابق بار ثبوت جہانگیر ترین کے کندھوں پر تھا۔

فیصلے میں لکھا گیا کہ دوران سماعت جہانگیر ترین کو دستاویزات پیش کرنے کے کئی مواقع دئیے گئے، ان کی نااہلی کے خلاف نظر ثانی خارج کی جاتی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎