ٹیکس کے تنازع نے پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پرسوالیہ نشان لگا دیا

 قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پی ایس ایل پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی مخالفت کردی۔


ٹیکس تنازع میں پھنسی ہوئی پاکستان سپر لیگ کا وجود خطرے سے دوچار ہو گیا کیونکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی مخالفت کردی ہے۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل کی صرف ایک فرنچائز لاہور قلندرز کے ٹیکس ریفنڈ دس کروڑ روپے سے زائد ہیں جب کہ دیگر فرنچائز کے بھی ٹیکس ریفنڈ جمع ہیں اور ری فنڈز کی مد میں بھاری رقم چار سال سے جمع ہو رہی ہے لہٰذا ٹیکس کا خاتمہ نہ کیا گیا تو پاکستان سپر لیگ ختم ہو جائے گی تاہم ان گزارشات کے باوجود قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پی ایس ایل پر ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی مخالفت کردی۔

 پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میںفیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ کیلئے آکشن رائٹس پرایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے تاہم ٹرن اوور سمیت باقی ٹیکس برقرار رہیں گے۔

ایف بی آر کے حکام نے اس پہلو کو واضح کیا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل )کا ایونٹ گزشتہ تین سیزن کے دوران خسارے سے دوچار رہا اور اس کے میچز متحدہ عرب امارات میں ہونے کی وجہ سے پی سی بی کے ساتھ فرنچائز کو بھی بھاری اخراجات کا سامنا ہے۔

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎