سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کیلئے کوئی رعایت نہیں۔۔۔وزیراعظم نےعوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اہم اعلان کردیا

سانحہ ساہیوال میں پولیس افسران اور اہلکاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔


 وفاقی حکومت نے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

اپوزیشن اپنے ارکان کے نام دینا چاہتی ہے تو دے سکتی ہے۔

دنیا نیوز ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیار ہے، اپوزیشن اپنے ارکان کے نام دینا چاہتی ہے تو دے سکتی ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ سانحہ ساہیوال میں پولیس افسران اور اہلکاروں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے تجاویز طلب کرلیں

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے سفارشات اور مستقبل میں سانحہ ساہیوال جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے تجاویز بھی طلب کی ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعظم کو دی گئی رپورٹ میں مقتول خلیل کے اہلخانہ کو بے قصور اور سی ٹی ڈی افسران کو قتل کے ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

سانحہ ساہیوال پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کو پیش کی گئی رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران کو خلیل فیملی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ساہیوال میں مقتول میاں بیوی اور ان کی بیٹی بے قصور تھے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو پیش کر دہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کے سربراہ سمیت متعدد افسران تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ کی روشنی میں کئی افسران کو معطل بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ملوث اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎