اب کوئی رحم نہیں،لگتا ہے انہیں اڈیالہ جیل سے کہیں اور شفٹ کرنا پڑے گا چیف جسٹس نے یہ ریمارکس کس کیس میں دئیے؟ جانیے

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انور مجید کے بارے میں کہا کہ اومنی گروپ کے مالکان کا غرور ختم نہیں ہوا، قوم کے اربوں روپے کها گئے اور پهر بهی بدمعاشی کررہے ہیں، لگتا ہے انہیں اڈیالہ جیل سے کہیں اور شفٹ کرنا پڑے گا۔


 جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں روپے کے کهانچے ہیں۔ معاف نہیں کریں گے.

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی زیر سربراہی میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کمرے میں پروجیکٹر لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری اوپن کورٹ میں پروجیکٹر پر چلائی جائے گی۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی تفصیلی رپورٹ 19 دسمبر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے مالکان کے وکلا منیر بهٹی اور شاہد حامد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اومنی گروپ کے مالکان کا غرور ختم نہیں ہوا۔ قوم کے اربوں روپے کها گئے اور پهر بهی بدمعاشی کررہے ہیں، لگتا ہے انہیں اڈیالہ جیل سے کہیں اور شفٹ کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے کہا انور مجید کے ساتھ اب کوئی رحم نہیں، آپ وکیل ہیں، آپ نے فیس لی ہوئی ہے، آپ کو سنیں گے لیکن فیصلہ ہم نےکرنا ہے۔

چیف جسٹس نے آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا اربوں روپے کے کهانچے ہیں، معاف نہیں کریں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎