پاسپورٹ کے بارے میں تیرہ دلچسپ حقائق

آپ نے یہ کتنی مرتبہ دیکھا ہو گا کہ آپ کے پاسپورٹ کی مدت ختم تو نہیں ہوئی؟


دنیا بھر میں کروڑوں لوگ سال کے اس حصے میں یہی کر رہے ہوتے ہیں۔

پاسپورٹ اس وقت ایک گرما گرم سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ آیا یہ ایک قیمتی دستاویز ہے جس سے دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں یا یہ دنیا بھر کے لوگوں کے آزادی سے سفر کرنے کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

پاسپورٹ کیسے وجود میں آیا اس کی ایک بڑی دلچسپ اور طویل تاریخ ہے۔ ذیل میں آپ کو چند ایسے حقائق ملیں گے جن سے آپ کی نظر میں پاسپورٹ کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جائے گی۔

اگر آپ سکینڈینیویا کے ملکوں کے پاسپورٹس کو الٹرا وائلٹ یا بلائے بنفشی شعاؤں کے نیچے رکھیں تو اس سے آپ کو قوس قزح کی طرح ’ناردرن لائٹس‘ کا عکس کاغذ پر پڑتا نظر آئے گا۔

نیہما کی کتاب کے مطابق فارس کے بادشاہ ایکسٹرسیز اول نے ایک سرکاری اہلکار کو ایک مکتوب دیا جس میں یہودہ کے علاقوں سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔

3) پاسپورٹس پر جنگ عظیم اول کے بعد سے تصاویر چسپاں کی جانے لگیں۔

جنگ عظیم اول کے شروع ہونے کے بعد پاسپورٹس پر تصاویر لگانے کی شرط عائد کی گی۔ یہ شرط جرمنی کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک شخص کے جعلی امریکی پاسپورٹ پر برطانیہ میں داخل ہونے کے بعد عائد کی گئی۔

اگر آپ کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے اور آپ کا وزن بڑھ جاتا ہے یا کم ہو جاتا ہے تو آپ کو نیا پاسپورٹ درکار ہوتا ہے۔ چہرے کی سرجری کروانے، کوئی ٹیٹو بنوانے یا پھر ناک کان چھدوانے کے بعد بھی آپ کو نئے پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔

شروع شروع میں جب پاسپورٹ پر تصویر کی شرط لگائی گئی تو اس وقت آپ اپنی پسند کی کوئی بھی تصویر بھیج سکتے تھے

حتی کہ خاندانی گروپ فوٹو بھی قبول کر لی جاتی تھی۔

6) پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے سے چھ ماہ قبل آپ کو نیا پاسپورٹ بنوانا ہوتا ہے۔

بیرون ملک جانے سے پہلے اپنی پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے کے بارے میں کبھی لاپرواہی نہ برتیں۔

بہت سے ملکوں اور اکثر یورپی ملکوں میں یہ شرط ہے کہ وہاں داخل ہوتے وقت آپ کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے میں کم از کم تین ماہ ہونے چاہیں۔

لیکن احتیاطاً اگر چھ ماہ باقی ہوں آپ کے پاسپورٹ کے ختم ہونے میں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ چین، انڈونیشیا، روس، سعودی عرب اور کچھ دیگر ملکوں میں یہ ضروری ہے۔

یہ کسی غیر ملک میں پھنس جانے سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔

7) کوئنز لینڈ سے آسٹریلیا میں داخل ہونے پر پاسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی

یہ اسی صورت ممکن ہے کہ اگر آپ ان نو ساحلی دیہات میں سے کسی ایک کے رہائشی ہوں جو پاپوا نیو گنی میں آتے ہیں اور انھیں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔

جب پاپوا نیو گنی نے آزادی حاصل کی تو اس وقت ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی ایک شق کے تحت اس کے شہریوں کو بغیر پاسپورٹ آسٹریلیا آنے کی اجازت حاصل ہے۔

ویٹیکن میں کوئی امیگریشن کنٹرول نہیں ہے لیکن پوپ کے ویٹیکن پاسپورٹ کا نمبر ایک ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق 32 کروڑ امریکی شہریوں میں سے صرف بارہ کروڑ کے پاسپورٹ ہیں۔

ٹونگا میں پاسپورٹ کی قیمت 20 ہزار پونڈ تھی۔

پولیسینا کی خود مختار ریاست کے آنحہانی صدر توفااو تاپو چہارم نے ملک کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے ملک کے پاسپورٹ غیر ملکیوں کو بھی فروخت کرنے شروع کر دیے تھے۔

فنلینڈ اور سلووینیا کے پاسپورٹ ’فلِکر‘ کتاب کی طرح ہیں

T

اگر آپ کسی ائیرپورٹ پر انتظار کی اذیت برداشت کر رہے ہوں اور آپ کے پاس فنس یا سلوینیا کا پاسپورٹ ہوتا تو وقت گزارنے میں آپ کو بڑی مدد مل سکتی ہے۔

آپ اس کے صفحات کو تیزی سے آگے کرنا شروع کریں تو آپ کو ان صفحوں کے نچلے حصے میں حرکت کرتی تصاویر نظر آئیں گی۔

12) نکاراگوا کے پاسپورٹ کا جعلی بنانا بڑا مشکل ہے

جنوبی امریکہ کے ملک نکاراگوا کے پاسپورٹ میں 89 ایسی نشانیاں ہیں جن سے ان کے اصلی ہونے کی تصیدق کی جا سکتی ہے۔

اس ہی بنا پر اسے دنیا کا محفوظ ترین پاسپورٹ تصور کیا جاتا ہے جس کی نقل یا جس میں جعل سازی ممکن نہیں ہے۔

ملکہ الزبتھ دوئم کو پاسپورٹ کی فکر نہیں کرنی پڑتی کیونکہ وہ خود باقی شہریوں کو یہ اجازت دیتی ہیں لیکن انھیں اپنی ذات کے لیے اس کی ضرورت نہیں۔

لیکن ان کی خفیہ دستاویزات کا پاسپورٹ ہوتا ہے۔

ملکہ کے ہرکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان دستاویزات کو دنیا بھر میں لے جانے کے مجاز ہوتے ہیں اور ان دستاویزات کا اپنا پاسپورٹ ہوتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎