ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکا میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا-میکسکو سرحدی دیوار تعمیر کرنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی کا نافذ کرسکتے ہیں۔


ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اس طرف کی اشارہ کرتا ہے کہ وہ حکومت کے لیے مکمل فنڈ کے بل کو تب تک روکے رکھیں گے جب تک وہ سرحد دیوار کے لیے رقم حاصل نہیں کرلیتے۔

دوسری جانب ٹرمپ کے اتحادی اور قانون سازوں کے درمیان اس تعطل کو دور کرنے کے لیے ملاقات متوقع ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن صدر نے 90 منٹ کی ملاقات کو مثبت قرار دیا تھا لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایمرجنسی کے صدارتی اختیارات کو استعمال کرکے فنڈنگ کے لیے کانگریس کی منظوری کو بائی پاس کرنے پر غور کریں گے؟ تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ہاں وہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ایسا کرسکتا ہوں، ہم نیشنل ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں اور اسے بہت جلدی تعمیر کرسکتے ہی جو ایسا کرنے کا ایک اور طریقہ ہے‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’جو میں کر رہا ہوں اس پر مجھے فخر ہے، میں اسے شٹ ڈاؤن نہیں کہوں گا بلکہ میں اسے یہ کہوں گا کہ آپ اپنے فائدے اور ملک کے لیے کیا کرتے ہیں‘۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ’نیشنل ایمرجنسی‘ نافذ کرکے کانگریس کی منظوری کے بغیر دیوار بنانے کا اپنا وعدہ پورا کرسکتے ہیں، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ انہوں نے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟ کیوں انہوں نے وفاقی ملازمین کو تکلیف دی اور ملک کی بڑی ایجنسیوں کے کام میں خلل پیدا کیا؟

اس مسئلے کا جواب اتنا آسان نہیں ہے، امریکی قوانین میں ایسی دفعات موجود ہیں جو امریکی صدر کو جنگ یا نیشنل ایمرجنسی کے دوران براہ راست فوجی تعمیراتی منصوبوں کی اجازت دیتی ہیں لیکن اس کے لیے رقم محکمہ دفاع کی جانب سے آتی ہے۔

یہ وہ رقم ہوتی ہے جو کانگریس نے دیگر مقاصد کے لیے محکمہ دفاع کو دی ہوتی ہے اور اگر اس طرح کا اقدام کانگریس سمیت ریپبلکنز کو پیچھے دکھیل دے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس کے آخر سے امریکا میں جزوی شٹ ڈاؤن تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔

یہ شٹ ڈاؤن عارضی اخراجات پر اتفاق رائے نہ ہونے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کی میکسکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے 5 ارب ڈالر کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد شروع ہوا تھا۔

اس شٹ ڈاؤن کے اعداد و شمار نے بہت خراب صورتحال ظاہر کی تھی کیونکہ 8 لاکھ وفاقی ملازمین کو کرسمس کی چھٹیوں تک عارضی رخصت یا بغیر تنخوا کے کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

دوسری جانب گزشتہ روز امریکی ایوان نمائندگان میں شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے لیے 6 بل منظور کیے تھے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز کا بل مسترد کردیا گیا۔

جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید شٹ ڈاؤن کی نوید سناتے ہوئے کہا تھا کہ ’شٹ ڈاؤن کا دورانیہ ایک مہینے سے لے کر کئی سال‘ تک ممکن ہے اور اس دوران پبلک سیکٹر کے ورکرز کو بغیر اجرت کے گھر بھیج دیا جائے گا حتیٰ کہ امریکی فوجیوں کو بھی حکومتی سرگرمیاں بحال ہونے تک رقوم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی، تاہم فوجی سرگرمیاں اور ضروری سروسز اس دوران بحال رہیں گی۔

اگر ہم امریکی شٹ ڈاؤن کی بات کریں تو اس کا آغاز 1976 میں ہوا تھا اور اب تک 21 مرتبہ امریکا کو اس شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی تاریخ کا دوسرا شٹ ڈاؤن 1977 میں صدر جمی کارٹر کے دور میں ہوا اور یہ 30 ستمبر سے 13 اکتوبر تک رہا تھا۔

تاہم اس شٹ ڈاؤن کے اختتام کے کچھ روز بعد ہی 31 دسمبر 1977 کو امریکا میں تیسرا شٹ ڈاؤن ہوا جو 9 نومبر تک جاری رہا۔ امریکی کا چوتھا شٹ ڈاؤن بھی 1977 میں ہی ہوا، جس کا دورانیہ 30 نومبر سے 9 دسمبر تک تھا۔

اس کے بعد 1978 میں صدر جمی کارٹن کے دور میں ہیں امریکا میں ایک اور شٹ ڈاؤن ہوا، جو 30 ستمبر سے 18 اکتوبر تک جاری رہا۔ امریکی صدر جمی کارٹن کی ہی تاریخ کا پانچواں شٹ ڈاؤن 30 ستمبر سے 12 اکتوبر 1979 تک ہوا۔

بعد ازاں امریکی میں 1981 میں 20 سے 23 نومبر کے درمیان شٹ ڈاؤن ہوا، اس دوران امریکا کے صدر رونلڈ ریگین تھے۔

امریکی تاریخ میں آٹھواں شٹ ڈاؤن 1982 میں 30 ستمبر سے 2 اکتوبر کے درمیان ہوا، اسی سال کا دوسرا شٹ ڈاؤن 17 دسمبر کو شروع ہوا جو 21 دسمبر کو ختم کیا گیا۔

اگلے ہی سال 1983 میں 10 سے 14 نومبر تک امریکی تاریخ کا 10واں شٹ ڈاؤن کیا گیا جبکہ 30 ستمبر سے 3 اکتوبر 1984 میں بھی امریکا میں شٹ ڈاؤن ہوا، تاہم یہ شٹ ڈاؤن ختم ہوتے ہی دوبارہ شروع ہوا اور 5 اکتوبر تک جاری رہا۔

رونلڈ ریگین کے دور کا ایک او شٹ ڈاؤن 1986 میں 16 سے 18 اکتوبر تک ہوا جبکہ 1987 میں 18 سے 20 دسمبر تک بھی امریکا میں شٹ ڈاؤن کیا گیا۔

اس کے بعد امریکی تاریخ کا 15واں شٹ ڈاؤن 1990 میں 5 اکتوبر سے 9 اکتوبر تک ہوا، اس دوران امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش تھے۔

بعدازاں 1995 میں صدر بل کلنٹن کے دور میں 13 سے 19 نومبر تک شٹ ڈاؤن کیا گیا، جس کے بعد انہیں کے دور میں دسمبر 1995 سے جنوری 1995 تک ایک مرتبہ پھر شٹ ڈاؤن ہوا۔

امریکا میں 18واں شٹ ڈاؤن 2013 میں صدر باراک اوباما کے دور میں ہوا اور یہ یکم سے 17 اکتوبر تک جاری رہا تھا۔

اس کے بعد گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 3 شٹ ڈاؤن ہوئے، جن کا آغاز 20 جنوری 2018 سے ہوا اور وہ 3 دن بعد 23 جنوری کو ختم ہوگیا۔

سال 2018 کا دوسرا شٹ ڈاؤن 9 فروی کو ہوا جو صرف ایک ہی روز میں ختم کردیا گیا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎