شہباز شریف کی ضمانت پر ہم مایوس ہیں لیکن۔۔۔حکومت نے اپنا حیران کن فیصلہ سنا دیا

فواد چودھری نے کہا کہشہبازشریف کی ضمانت لمحہ فکریہ ہے،معاشرے پرمنفی اثر پڑے گا، ضمانت سے عوام کو مایوسی ہوئی ، ہم بھی مایوس ہیں،نظام کیخلاف لڑیں گے،امید ہے نیب ضمانت کو چیلنج کرے گا،نیب کو اپنی تفتیش اور پراسکیوشن کا جائزہ لینا چاہیے۔


فواد چودھری نے کہا کہ امیر اور غریبوں کیلئے دو نظام ہیں۔ ہم نے اس نظام کو بدلنا ہے۔ شہبازشریف کی ضمانت بے گناہی نہیں ہے۔ ان کیخلاف کیس موجود ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ نوازشریف کو ضمانت ملی ہے۔ ان کیخلاف ایک چارج شیٹ ہے۔نیب کو قوم کوبتانا چاہیے کہ ان کے مقدمے میں کہاں کہاں خامیاں ہیں، جب بھی وہ بڑے آدمی پر ہاتھ ڈالتے ہیں ، تووہ اس کیس کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی ضمانت سے پاکستان کے معاشرے میں ایک منفی تاثر جائے گا، لوگوں میں تاثر جائے گا کہ بڑے لوگ مچھلی کی طرح نکل جاتے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ نیب اس کیس کو چیلنج کرے گا۔نیب کو اپنی تفتیش اور پراسکیوشن کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی سیاسی چیلنج نہیں ہے، ہم حکومت میں ہیں، ہم اپنے کام کررہے ہیں، ہماری لڑائی نظام کیخلاف ہے ، ہم اس نظام کو بدل کررہیں گے۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اب تک کابینہ کے 26 اجلاس ہوئے اور 440 فیصلے کیے گئے۔گزشتہ حکومت کے ابتدائی 6 مہینوں میں صرف 5 اجلاس ہوئے تھے۔ ہمیں کسی سیاسی چیلنج کا کوئی سامنا نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا سوموار کو اسمبلی میں جانے کا امکان ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎