یہ ہیں نئے پاکستان کے وزیر اعظم، امریکی صدر سے ملاقات کے لیے کیا شرط رکھ دی؟جانیے

 امریکا کے تعلقات میں پاکستان کا مفاد بنیادی شرط ہوگا اور اسی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔امریکہ کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاو کا شکار رہے ہیں.


وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ میں نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نےپاکستان کی قیادت پراعتماد کا اظہارکیاہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان کےمفادمیں امریکی صدرسمیت کسی سےبھی ملنےکوتیارہیں۔ 

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نےہمیشہ کہاکہ افغان مسئلےکاکوئی فوجی حل نہیں۔

افغان مسئلےکاواحدحل مذاکرات کےذریعےسیاسی مفاہمت ہے۔پاکستان افغان مسئلےکےپرامن حل کےسلسلےمیں سہولت کاری جاری رکھےگا۔ہمیں سمجھناہوگاکہ فوجی طاقت سےافغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کی گمراہ کن منظرکشی کررہاہے۔ہم نےآزادجموں کشمیرمیں سب کورسائی دی ہوئی ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیرمیں مظالم چھپانےکےلیےکسی کووہاں جانے نہیں دیتا۔

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی بھی دیکھنے کو ملی تاہم حالیہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کو پاکستان کی اہمیت باور کروا دی ہے۔کچھ عرصہ پہلے امریکی حکام نے صدر ٹرمپ کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے ملیں ۔دوسری جانب پاکستان نے یہ بات طے کر لی ہے کہ اب پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں پاکستان کا مفاد بنیادی شرط ہوگا اور اسی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے لندن میں نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اورامریکاکےتعلقات میں بہتری آرہی ہے۔امریکا نےپاکستان کی قیادت پراعتماد کا اظہارکیاہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان کےمفادمیں امریکی صدرسمیت کسی سےبھی ملنےکوتیارہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎