کام کی خبر آگئی، منی بجٹ میں عوام کو کیا ریلیف دیا گیا؟ کیا سستا ہوا کیا مہنگا۔۔جانیے

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میں سپیکرقومی اسمبلی کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کے عوام نے ملکی مسائل کے حل کیلئے ارکان کو ووٹ دیکر یہاں بھیجا ہے ، ایوان عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور حل بھی کرنا چاہتی ہے ، یہ کوئی نیا بجٹ پیش نہیں کیا جارہا ، بلکہ یہ ایک اصلاحات کا پیکج ہے جو میں یہا ں پیش کررہا ہوں۔ 


چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 سے کم کر کے 5ہزار کررہے ہیں، خصوصی اقتصادی زون میں سرمایہ کاری لانے پر توجہ ہے، یکم جولائی سے سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے ،ایس ایم ای سیکٹر پر آمدن پر عائد ٹیکس 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر رہے ہیں، بینکنگ ٹرانزکشنز پر فائلرز کیلئے 0.3فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے،6ماہ میں زرعی قرضوں میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے ،1800سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے گی۔

، چھوٹے سے درمیانے اداروں کیلئے قرضوں پر آمدن پر ٹیکس آدھا کررہے ہیں،5ارب روپے کی قرض حسنہ کی سکیم لا رہے ہیں.

وزیر خزانہ نے کہاہے کہ چھوٹے سے درمیانی سطح کے ادارے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ، جب تک چھوٹے اور درمیانی سطح کے ادارے ترقی نہیں کریں گے ، نوکریاں پیدا نہیں ہوسکتیں۔

حکومت کے پہلے چھ ماہ میں زرعی قرضوں میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے ، زرعی قرضو ں پر بھی ٹیکس39فیصد سے کم کرکے 20کررہے ہیں، تیسرا سیکٹر جس کو حکومت ترقی دینا چاہتی ہے وہ غریبوں کیلئے گھر بنانا ہے ، وزیر اعظم کا وعدہ ہے کہ پچاس لاکھ گھر بنانے کی کوشش کریں گے اور زیاد ہ غریبوں کے گھروں پر توجہ دی جائیگی ، اس کیلئے بھی گھروں کی تعمیر کیلئے دیئے جانے والے قرضے پر ٹیکس39فیصد سے کم کرکے 20فیصد کررہے ہیں، 5ارب کی قرض حسنہ کی سکیم لائی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس فائلر کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس نا انصافی پر مبنی تھا جو تاجروں کے ساتھ نا انصافی تھی ، یہ ختم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی کے اوپر ایک استثنیٰ حاصل تھا کہ نان فائلر پچاس لاکھ تک جائیداد خرید سکتے ہیں ،اب چھوٹی گاڑیاں نا ن فائلر بھی خرید سکتے ہیں لیکن ہم ان پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے ، اس کے لئے اقدامات کررہے ہیں، ود ہولڈنگ ٹیکس کی سٹیٹمنٹ کو سال میں بارہ مرتبہ پیش کرنے کی بجائے دو مرتبہ کیا جارہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے شادی ہالوں پر ٹیکس بڑھا دیا تھا، شادی ہال پر جو ٹیکس 20ہزار تھا وہ کم کرکے 5ہزار کیا جارہاہے ، تاجروں کیلئے بالکل آسان اورسادہ سکیم لیکر آرہے ہیں، یہ پہلے اسلام آباد میں لاگوکی جائیگی اور اس کی کامیابی کے بعد اس کو ملک بھر میں پھیلایا جائیگا ، مجھے امید ہے کہ اس کے نتیجے میں ٹیکس بھی ہم کو زیادہ ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نیوز پرنٹ کی انڈسٹر ی کیلئے ، حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایک آزاد صحافت چاہئے ، اس لئے ہم نیوز پرنٹ پر جوڈیوٹی لگی ہوئی ہے ، اس کومکمل طور پر ختم کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے جتنی بھی کمپنیا ں ہیں ، ان کا سپر ٹیکس ختم کیا جارہاہے ، ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک عجیب و غریب ٹیکس لگایا تھا ، سیونگ کی حوصلہ افزائی تو دور کی بات بلکہ اس پر ٹیکس لگایا گیا جو یکم جولائی سے ختم ہوجائیگا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎