سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل میں کس سے کیا بات ہوئی؟ ساری کہانی منظرعام پرآگئی

جمعرات کا دن نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے مخصوص ہے ، اس روزجیل حکام کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل افراد ہی ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔


نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ،بھتیجے حمزہ شہباز کے علاوہ سابق صدر ممنون حسین، پارٹی رہنما اورسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، مشاہد حسین سید اور سائرہ افضل تارڑ نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم سے ملاقات کی۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ میاں صاحب آپ کا دل بڑھاہوا ہے، جس پر میں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ میرا دل تو ویسے ہی بڑا ہے، کھلے دل کا انسان ہوں۔

یہ بات میاں نواز شریف نے جیل میں ملنے آئے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنماؤں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

نون لیگی رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے میاں نواز شریف سے گفتگو کے دوران کہا کہ صحت کے پیش نظر آپ کو اسپتال میں داخل ہونا چاہیے یا فوری رہائی ملنی چاہیے۔

جس پر نواز شریف نے انہیں جواب دیا کہ اسپتال جانے کے بجائے رہائی والی بات دل کو لگی ہے۔

پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف سے سوال کیا کہ میڈیکل بورڈ نے آپ کا چیک اپ کیا تھا تو ڈاکٹروں نے آپ کی صحت کے متعلق کیا کہا؟

میاں نواز شریف نے انہیں اس کا جواب دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میاں صاحب آپ کا دل بڑا ہوگیا ہے، جس پر میں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ میرا دل تو ویسے ہی بڑا ہے، کھلے دل کا انسان ہوں۔

پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ نوازشریف نے کہا کہ سابق صدر ممنون حسین کو جیل میں مجھ سے ملنے آنے پر جگہ جگہ روک کر تلاشی دینی پڑی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کے ساتھ تو ناروا سلوک ہوتا ہی رہا ہے، مگر سابق صدر کے ساتھ ایسا سلوک پہلی بار ہوا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں سنائی گئی 7 سال قید کی سزا کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پوری کر رہے ہیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎