نواز شریف نے آج جیل میں کو نسا شعرسنایا؟آپ بھی جانیے

کوٹ لکھپت جیل میں جمعرات کا دن سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کادن ہوتا ہے ۔ نواز شریف اپنے ملنے والوں سے شاعری میں اپنے دل کی باتیں کرتے ہیں۔


کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والے لیگی رہنماؤں نے جب آج ان کی طبیعت کا احوال دریافت کیا تو انہوں نے غالب کا شعر’ اُن کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق، وہ سمجھتے ہیں کے بیمار کا حال اچھا ہے‘ سنادیا۔

نواز شریف کا اپنی صحت کے حوالے سے کہنا تھا کہ صحت بالکل ٹھیک ہے اور حوصلے بلند ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو سن کر افسوس ہوتا ہے۔حکومت کو چاہیے وہ عوامی مشکلات کے پیش نظر ملتان موٹروے فوری طور پر کھول دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی رہنما یا کارکن سے ملاقات کے لیے مجھے کوئی لسٹ دکھائی نہیں جاتی، ملنے کے لیے جو بھی آتا ہے اسے خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے سانحہ ساہیوال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تصدیق کیے بنا بےگناہوں کا خون نہیں بہانہ چاہیے تھا، چاہتا ہوں سانحہ ساہیوال کی شفاف تحقیقات ہوں۔

انہوں نے کہا کہملک میں معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے اقدامات کیے لیکن اب حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، سی پیک کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی تاکہ ملک خوشحال ہو، اگر اسے روکا جاتا ہے تو ملک کو بہت نقصان ہوگا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎