مکی آرتھر نے جنوبی افریقا سے بد ترین شکست کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا؟

ایک سوال کے جواب میں ہیڈ کوچ نے کہا کہ ڈریسنگ روم میں جو ہوتا ہے وہ اندر ہی رہنا چاہیے، مجھے افسوس ہوتا ہے جب چیزیں باہر آتی ہے، میں ایک ایماندار شخص ہوں اور پروفیشنل کام کرتا ہوں، میرا کہنا بہتری کے لیے ہوتا ہے، مجھے ڈریسنگ روم کی باتیں باہر آنے سے نفرت ہے۔


انہوں نے کہا کہ شکست کا ذمہ دار کسی ایک کو نہیں ٹھہراؤں گا، ہم سب شکست کے ذمہ دار ہیں، جنوبی افریقا میں کبھی کوئی ایشین ٹیم ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی، وہاں بیٹنگ کی کنڈیشنز ٹف ہوتی ہیں۔

 

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ ہم نے ساڑھے چار ماہ مسلسل کرکٹ کھیلی، نوجوان کھلاڑی اچھا پرفارم کر رہے ہیں، ہمیں ہر کنڈیشنز میں اچھا کھیلنے کی ضرورت ہے، ٹیسٹ فارمیٹ میں ابھی بہتری کی ضرورت ہے۔

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کیلئے کمبی نیشن بنارہے ہیں اور چیف سلیکٹر کے ساتھ مشاورت میں ہیں، آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں مائنڈ بنائیں گے کہ کیسے ورلڈکپ میں جانا ہے، انگلینڈ کے خلاف سیریز والے پندرہ کھلاڑی ہی ورلڈکپ میں جائیں گے۔

مکی آرتھر نے کہا کہ ورلڈکپ کے بعد میرے کام کرنے یا نہ کرنے کا پی سی بی پر منحصر ہے لیکن مجھے پاکستان ٹیم کے ساتھ مزید کام کرنا اچھا لگے گا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎