کیا پاکستان ٹیم ون ڈے سیریز میں کچھ کر دکھائے گی؟

کیا پاکستانی ٹیم جو گزشتہ سال چیمپئینز ٹرافی جیتنے کے بعد سب کو حیران کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، پست حوصلوں کے باوجود جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کم بیک کر سکتی ہے؟


کرکٹ پاکستان میں مقبول ترین کھیل ہے۔ ٹیم کی کارکردگی پر ایک ٹھیلے والے سے لے کر ملک کے وزیراعظم تک، سب کی نظر رہتی ہے، مگر گرین شرٹس کو ان دنوں پے در پے ناکامیوں کے بعد سخت تنقید کا سامنا ہے۔

نیوزی لینڈ سے ہوم سیریز ہارنے کے بعد جنوبی افریقہ میں وائٹ واش پر ٹیم کے ساتھ ساتھ چیف سیلکٹر پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بعض کرکٹ پنڈٹس یہ کہتے ہیں کہ ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجہ رائٹ مین کا رائٹ جاب پر نہ ہونا ہے۔

پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز ہفتے کو پورٹ الزبتھ میں ہو رہا ہے۔ گرین شرٹس کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش اور بڑے مارجن سے شکستوں کے بعد سخت دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔ ایک روزہ میچوں کے لیے تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کی کمک پہنچ چکی ہے، لیکن کرکٹ مبصرین کو کم ہی امید ہے کہ یہ تجربہ پاکستان کے کام آ سکے گا۔

محمد حفیظ بالخصوص جنوبی افریقہ کے خلاف اعتماد سے عاری بلے بازی میں مشہور ہیں۔ کسی بھی طرح پاکستانی ٹیم ایک روزہ میچوں میں ٹیسٹ سیرییز میں نظر آنے والی ٹیم سے مختلف نظر آ سکتی ہے۔

کرکٹ کمنٹیٹر اور اینکر مرزا اقبال بیگ کہتے ہیں’ ٹیم کے حوصلے بہت پست ہیں۔ ون ڈے سیریز میں کم بیک آسان نہ ہو گا۔ شعیب اور حفیظ تجربہ کار ہیں۔ ان کا تجربہ کئی بار کام بھی آیا ہے۔ مگر یہاں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔‘

عمیر علوی سپورٹس رائٹر اور سپورٹس اینالسٹ ہیں۔ انہیں بھی ٹیم کے کم بیک کی توقع نہیں ہے۔ ’ ٹیم سیلیکشن کی سمجھ نہیں آتی۔ اسد شفیق نے ٹیسٹ سیریز میں اچھا پرفارم نہیں کیا مگر وہ آخری اننگ میں اور اس سے پہلے ایک اننگ میں تیز رفتاری سے رنز بنا رہے تھے۔ اگر وہ سچوایشن کے ساتھ ایڈجسٹ ہو چکے تھے تو انہیں ون ڈے سکواڈ میں رکھنا اچھا ہوتا۔‘

تجزیہ کار، ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹیم سیلیکشن اور چیف سیلیکٹر انضمام الحق کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ انضمام کے بھانجے امام الحق کی ٹیم میں مستقل شمولیت پر شاکی ہیں باوجودیکہ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بری طرح ناکام ہوئے تھے۔

انضمام الحق اپنے بھانجے کا یہ کہتے ہوئے دفاع کرتے ہیں کہ وہ باصلاحیت کھلاڑی ہیں، اور کھلاڑی اگر ایک آدھ سیریز میں ناکام ہو جائے تو اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اسے اعتماد دینا ملک کے لیے فائدہ مند ہے۔

عمیر علوی کہتے ہیں کہ چانس رشتہ داری کو نہیں ٹیلنٹ کو دیا جانا چاہیے۔ وہ قومی سطح پر ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ایک فہرست یاد کراتے ہیں جو ملک کے لیے لمبا کھیل سکتے ہیں۔

’ ٹیلنٹ تو سمیع اسلم میں بھی بہت ہے۔ فواد عالم پرفارم کر رہا۔ جینید خان نے اچھا کھیلا ہے۔ ان کو نکال دیا گیا ہے۔‘

کرکٹ پنڈٹس کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں کرکٹ کے کرتا دھرتا افراد پر نظر ڈالی جائے تو رائٹ میں رائٹ جاب پر نظر نہیں آتا۔

مرزا اقبال بیگ کہتے ہیں کہ انضمام الحق جیسا عظیم بلے باز چیف سیلکٹر ہے۔ وہ بیٹنگ کوچ ہوتے تو زیادہ فائدہ مند ہو سکتے تھے۔

’ یہ بہت اچھا ہوتا کہ غیرملکی کوچز کی بجائے انضمام الحق، محمد یوسف، جاوید میانداد اور عامر سہیل جیسے پاکستان کے سابق لیجنڈز سے کوچ کی خدمات لی جاتیں۔‘

عمیر کہتے ہیں انٹرنیشنل سطح پر پہچنے والے کھلاڑیوں کی کوچ زیادہ مدد نہیں کر سکتے۔ کھلاڑی ان کے مشوروں پر عمل نہیں کرتے۔

کرکٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹیم کی ناکامیوں کی ایک وجہ کپتان سرفراز احمد کا مستقل مزاجی سے پرفارم نہ کرنا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی میں نکھار لائیں تاکہ باقی کھلاڑیوں پر بھی پرفارم کرنے کے لیے دباؤ بڑھے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎