کیا عثمان بزدار کو 4 ماہ بعد تبدیل کردیا جائے گا

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہے وہ اتنا بڑا صوبہ سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں.


پنجاب جیسے صوبے کو سنھبالنے کے لیے کسی تجربہ کار آدمی کی ضرورت ہے لیکن اب وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہ دیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے.

اسی حوالے سے ایک صحافی حسن رضا نے ٹویٹ کیا کہ ممکن ہے عثمان بزدار کو 4 ماہ بعد تبدیلی کر دیا جائے. حسن رضا نامی صحافی کا اپنے ٹویٹر پیغام کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ 4 ماہ بعد پنجاب کا وزیراعلیٰ کوئی اور ہوگا. 

صحافی نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کا فیصلہ ہو چکا۔اب وقت بتائے گا کب تک زبردستی اس کو رکھ کر مزید مسائل پیدا کئے جائیں گے.زمینی حقائق پر جائیں تو مسائل مزید جنم لے کے۔

واضح رہے عثمان بزدار کے بارے میں پہلے صحافیوں کی رائے اچھی نہیں تھی اور سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ ایک نا تجربہ کار شخص اتنا بڑا صوبہ سنبھالنے کا اہل نہیں ہے ۔کئی صحافیوں کی جانب سے عثمان بزدار پر تنقید کی جاتی ہے۔

معروف صحافی کامران شاہد نے کہا تھا کہ ہےعمران خان نے جتنی تعریفوں کے پل عثمان بزدار کے باندھے اتنے آج تک کسی کے نہیں باندھے، جو عمران خان نے فرمایا اسے سن کر آنکھیں اور عقل دنگ رہ گئیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎