تبدیلی آ نہیں رہی، آگئی ہے، وہ کام شروع ہوگیا جو گزشتہ 10 سال میں نہ ہوسکا

پاکستان میں  گہرے سمندری پانی میں 10 سال بعد زیر سمندر تیل و گیس کی تلاش کے کام کا آغاز کردیا گیا۔


امریکی ڈرلنگ کمپنی ایگزون موبل ایک ڈرلنگ رگ، 3سپلائی ویسلز اور2ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کراچی کے سمندری حدود میں ڈرلنگ کے کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے میری ٹائم آفیئر محمود مولوی نے بتایا ہے کہ امریکی کمپنی کراچی کے ساحل سے280کلومیٹر دور گہرے سمندر میں انڈس جی بلاک میں کیکرون نامی وھیل میں ڈرلنگ کر رہی ہے۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق تیل و گیس کی تلاش کے لیے ساحل سمندر سے 230 کلومیٹر دور زیرِ سمندر کھدائی کا کام اتوار کی رات سے شروع کیا گیا۔جیونیوز کے مطابق1900 میٹر پانی کی گہرائی میں کل 3750 میٹر کھدائی کے کام کے بعد تیل و گیس کی موجودگی کا پتہ لگایا جائے گا۔

مزکورہ منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 10کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔ یاد رہے 2 جنوری کو پاکستان میں سمندر کی تہہ سے تیل کی تلاش کے مشن کے تحت دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ایگزون موبل کے بحری جہاز پاکستانی سمندری حدود میں ڈرلنگ کے لیے پہنچے تھے۔

تیل و گیس کی تلاش کے لیے اٹالین کمپنی ای این آئی آپریٹر جب کہ ایگزن موبل، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل جوائنٹ وینچر پارٹنر ہوں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎