کیا پاکستان کو دوست ممالک سے ملنے والے قرضوں کی بھاری قیمت چکانا ہوگی؟

 وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے ملنے والے قرضے اور امداد مفت میں نہیں ملے، تاہم اب پاکستان کسی کیلئے بھی کرائے کی بندوق کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ 


وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر نئی بحث چھڑ گئی، کیا پاکستان کو دوست ممالک سے ملنے والے قرضوں کی بھاری قیمت چکانا ہوگی؟

اقتدار سنبھالنے کے بعد وفاقی حکومت نے عوام کو یہ بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئے.مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت معیشت کی ترقی کے حوالے سے جو دعوے کرتی رہی، وہ سب جھوٹے تھے.

اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان نے دوست ممالک جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین شامل ہیں، ان کا دورہ کرکے فوری امداد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ وزیراعظم نے ان دوست ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ وزیراعظم عمران خان اپنے مشن میں کامیاب رہے اور دوست ممالک جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین شامل ہیں، انہوں نے پاکستان پر اربوں ڈالرز کی امداد اور نرم شرائط کے قرضے نچھاور کر دیے۔

تاہم اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کہیں پاکستان کو اس امداد کے بدلے بھاری قیمت نہ چکانا پڑے۔

اس حوالے سے اب وزیراعظم عمران خان کے ایک بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ دوست ممالک سے امداد اور قرضے مفت میں نہیں ملے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ لیکن جو بھی ہو جائے، اس مرتبہ پاکستان کرائے کی بندوق نہیں بنے گا۔

اس حوالے سے اب بحث جاری ہے کہ پاکستان کو کن شرائط پر چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قرضے دیے ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے وضاحت کرنی چاہیئے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎