مردوں میں ذیابیطس کی ظاہری علامات، ایک بار جان لیں ایسا نہ ہو کہ پھر دیر ہو جائے

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔


اس مرض کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ کو اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے تاکہ ذیابیطس کی شکایت ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔

ویسے تو ذیابیطس کی اکثر علامات مردوں اور خواتین میں مشترک ہوتی ہیں مگر کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو مردوں میں سامنے آتی ہیں۔

تو ایسی ہی خاموش علامات کے بارے میں جانیے۔

جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یقیناً تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے۔ ذیابیطس کا شکار ہونے کی صورت میں خوراک جسم میں توانائی بڑھانے میں ناکام رہتی ہے اور ضرورت کے مطابق توانائی نہ ہونے سے تھکاوٹ کا احساس اور سستی طاری رہتی ہے۔ اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو میں شوگر لیول اوپر نیچے ہونے سے بھی تھکاوٹ کا احساس غلبہ پالیتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو اگر آپ کے خاندان میں کسی کو شکار بنا چکا ہے تو اس بات کا امکان کافی ہوتا ہے کہ مردوں میں وہ منتقل ہوجائے یا مستقبل قریب میں اس کے شکار ہوجائیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر کسی خاندان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کی تاریخ ہو تو ان کے بچوں میں یہ خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تو اپنے خاندان کی طبی تاریخ کو اپنے ذہن میں رکھیں اور اپنا شوگر چیک اپ کروانا عادت بنالیں۔

ویسے تو عمر کے ساتھ وزن بڑھنا نارمل ہے مگر پھر بھی اس پر نظر رکھن کی ضرورت ہوتی ہے، مردوں کو اس حوالے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان میں معمولی وزن بڑھنا بھی اس خاموش قاتل مرض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

کیا آپ زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں مگر کسی دن ورزش بھی کرلیتے ہیں؟ تو بلڈ پریشر اور دیگر میٹابولک مسائل سینے میں درد کا باعث بنتے ہیں، تو جسمانی سرگرمیوں کو متوازن بناکر آپ اس خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔

بلڈ شوگر کی سطح بہت زیادہ ہو تو اعصاب اور شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو Erectile dysfunction کا سامنا ہوسکتا ہے، جو کہ ایسی ابتدائی علامت ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ کچھ کیا جائے، اس مرض کا موثر علاج موجود ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہوئے ہچکچائیں مت۔

پیشاب میں شکر کی زیادہ مقدار بیکٹریا کے افزائش نسل کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں مثانے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار انفیکشن کا سامنے آنا فکرمندی کی علامت ہوسکتی ہے اور اس صورت میں ذیابیطس کا ٹیسٹ لازمی کرالینا چاہئے کیونکہ یہ اس مرض میں مبتلا ہونے کی بڑی علامات میں سے ایک ہے۔

میٹابولک سینڈروم جو کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھانے والا عنصر ہے، ختلف قسم کے جنسی مسائل کا باعث بھی بنتا ہے اور یہ بھی مردوں میں ذیابیطس کی چند علامات میں سے ایک ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎